میں نےدوسری شادی کی،دوسری عورت اوراس کےگھروالوں کویہ نہیں بتایاکہ یہ میری دوسری شادی ہےنکاح کےوقت لڑکی کی ماں اوراس کاایک چھوٹابھائی موجودتھا،بڑےبھائی اوروالدکونکاح کےبارےمیں کسی قسم کاعلم نہ تھااورنہ ہی لڑکی نےاپنےوالداوربھائی سے نکاح کےلئےاجازت لی تھی۔لڑکی کےوالداوربھائی کےعلم میں نکاح والی بات آنےکےبعدانہوں نےلڑکی اوراس کی والدہ سےلاتعلقی اختیارکرلی، نکاح کےبعدلڑکی کی رخصتی نہیں ہوئی ۔البتہ ہم حقوقِ زو جیت اداکرتےرہے۔لڑکی کی والدہ کی طرف سےطلاق کےمطالبہ پرمیں نےوکیل سےرابطہ کیا،تواس نےایک نوٹس لکھ کردیا،جس میں یہ لکھاہواتھاکہ میں اپنی بیوی کوطلاق ثلاثہ یعنی (طلاق، طلاق، طلاق)دےکراپنی زوجیت سےعلیحدہ اورآزادکرتاہوں ۔اوروکیل نےمجھےکہاتھاکہ یہ پہلانوٹس ہےاور اس طرح تین نوٹس اوردوگے،توپھرطلاق ہوگی اورمیں نےاپنےمنہ سےطلاق کاکوئی لفظ ادانہیں کیاتھا،وکیل نےکہاتھاکہ آپ لوگ اگرتین ماہ کےاندراندرصلح کرکےآپس میں اکھٹےرہناچاہو تورہ سکتےہو،اسلامی اورپاکستانی قانون کےمطابق تم لوگوں کےپاس تین ماہ کاٹائم ہے۔برائےمہربانی مجھےاس مسئلےمیں رہنمائی فرمائیں کہ کیامیں اپنی دوسری بیوی کےساتھ رہ سکتاہوں۔اورہمارانکاح شرعی طورپردرست ہواتھایانہیں؟
صورتِ مسئولہ میں آپ کا اس دوسری بیوی کے ساتھ کیاہوانکاح چونکہ شرعاًمنعقد ہوچکاتھا؛اس لئے جب آپ نے تین طلاق والے طلاق نامے کو پڑھ کر اس پر دستخط کئے ہیں تو ایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوکر آپ کی دوسری بیوی پرحرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہےاورآپ کاباہمی نکاح ختم ہوگیا۔اب آپ ایک دوسرے کےلئے اجنبی بن چکے ہیں ،لہٰذا آپ کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ رہناجائزنہیں اورنہ ہی آپ دونوں آپس میں رجوع کرسکتے ہیں۔ عدت گزرنے کے بعد اپنے اہلِ خانہ کے مشورے سے عورت دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔
واضح رہے کہ طلاق واقع ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ طلاق دینے والے کوطلاق نامہ پر دستخط کرتے وقت یہ معلوم ہو کہ اس کی وجہ سے فوراً طلاق واقع ہوجائے گی،بس جب آپ نے خود اس طلاق نامہ میں لکھی ہوئی تین طلاقوں کو پڑھ کر اس پر دستخط کئے تو تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی،اگرچہ وکیل نے آپ کی درست رہنمائی نہ کی ہو۔
قال الله سبحانه وتعاليٰ:(سورة البقرة:230)
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}۔
الصحيح لأبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري(م:256هـ)(2/792)محمودية
5264-وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: ’’لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك‘‘۔
السنن لابي داودسليمان بن الأشعث(م: 275هـ)(3/516)دارالرسالة العالمية
2194-عن أبي هريرة، أن رسول الله ﷺ قال:”ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة”۔
الدرالمختار،العلامة علاءالدين الحصكفي(م: 1088هـ)(3/235)سعيد
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل)ولوتقديرابدائع،ليدخل السكران (ولوعبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لاإقراره بالطلاق…(أوهازلا) لايقصدحقيقة كلامه۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(3/250)سعيد
وأما الهازل فيقع طلاقه قضاء وديانة لأنه قصد السبب عالما بأنه سبب فرتب الشرع حكمه عليه أراده أو لم يرده۔