بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

وقت سے قبل دوائی کے استعمال سے وضع حمل کے جواز کی صورت

سوال

ایک عورت سات مہینے کی حاملہ ہے ڈاکٹر نے ہدایت دی ہے کہ اگر اپنی مدت پوری ہونے کے بعد حمل پیدا ہوجائے تو دونوں کی جان کو خطرہ ہے۔ البتہ اب اگر دوائی استعمال کر کے وضع حمل کرے تو ماں کی جان تو یقینی بچ سکتی ہے البتہ بچے کے بارے میں دونوں باتوں کا احتمال ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وقت سے پہلے دوائی استعمال کرکے وضع کرنا شرعا جائز ہے؟ اسقاطِ حمل میں داخل نہیں ہوگا؟

جواب

اگر کوئی ماہر طبیب یہ کہہ دے کہ :اگر جلدی وضع حمل نہ کیا تو ماں کی جان ضائع ہونے کا ظن غالب ہے تو وقت سے پہلے وضع حمل کروانے کی گنجائش ہے بشرطیکہ بچے کی جان بچانے کے لئے تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔
:الدر المختار،كتاب الصلاة،مطلب في دفن الميت (3/171)رشيدية
(حامل ماتت وولدها حي) يضطرب (شق بطنها) من الايسر (ويخرج ولدها) ولو بالعكس وخيف على الام قطع وأخرج لو ميتا، وإلا لا۔۔(قوله: وإلا لا) أي ولو كان حيا لا يجوز تقطيعه لأن موت الأم به موهوم، فلا يجوز قتل آدمي حي لأمر موهوم۔
:شرح الحموي علي الاشباه والنظائر(258)ادارةالقرآن والعلوم الاسلامية
تقيدالقاعدة ايضا بمالوكان احدهما اعظم ضررا من الآخر فان الاشد يزال بالاخف۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

21

/

46

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس