بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

وعدہ کر کے اس کو پورانہ کرنا

سوال

ایک لڑکی کی شادی کسی اچھے لڑکے کے بجائے ایک خراب لڑکے سے ہو گئی تھی۔ اُس لڑکی کی ماں نے کہا کہ: ‘تم اس سے خُلع لے لو، میں تمہاری دوسری جگہ شادی کروا دوں گی۔ وہ لڑکی خلع لینے کے بعد سے آزاد ہو گئی۔ اب اگر اس کی ماں اپنے وعدے کی پرواہ نہ کرے، تو ایسی صورت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ وعدہ کرنے کے بعد اس کو بغیر کسی عذر کے پورا نہ کرنا بہت ہی ناپسندیدہ عمل ہے، حدیث مبارک میں وعدہ خلافی کی مذمت وارد ہوئی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر عدالت نے تمام شرعی تقاضوں کو پورا کرکے لڑکی کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کی ہے تو اس کی والدہ کو چاہئے کہ اپنی بیٹی کے ساتھ کیے گئے وعدہ کو پورا کرے اور بلاعذر وعدہ خلافی نہ کرے۔
صحيح البخاري (رقم الحديث:33)
 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/  3067)
قال النووي: أجمعوا على أن من وعد إنسانا شيئا ليس بمنهي عنه فينبغي أن يفي بوعده، وهل ذلك واجب أو مستحب؟ فيه خلاف :  ذهب الشافعي وأبو حنيفة والجمهور إلى أنه مستحب، فلو تركه فاته الفضل وارتكب المكروه كراهة شديدة، ولا يأثم يعني من حيث هو خلف، وإن كان يأثم إن قصد به الأذى قال: وذهب جماعة إلى أنه واجب
مشكاة المصابيح (رقم الحديث:4881)
 وعن زيد بن أرقم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا وعد الرجل أخاه ومن نيته أن يفي له فلم يف ولم يجئ للميعاد فلا إثم عليه» . رواه أبو داود والترمذي
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/  3059)
ومفهومه أن من وعد وليس من نيته أن يفي، فعليه الإثم سواء وفى به أو لم يف، فإنه من أخلاق المنافقين
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس