بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ورثاء میں والدین ،زوجہ اور 4 بھائیوں کے درمیان تقسیم میراث

سوال

درپیش مسئلہ میں بندہ راہنمائی کا محتاج ہے۔بندہ کا بڑا بھائی فوت ہو گیا ہے ، اور وراثت میں ایک موبائل ، ایک پسٹل،اور کچھ کپڑے چھوڑے ہیں ۔اور ورثہ میں ماں باپ ، زوجہ اور چار بھائی ہیں ۔تو اس کی تقسیم کی کیا صورت اپنائی جائے ؟ اور دوسرا یہ کہ بھائی پولیس کے محکمے میں تھا ،تو اس کی وفات کے دن محکمے کی طرف سے پچاس ہزار روپے ملے تھے، تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ وراثت میں شامل نہیں،پھر بھی اسکی کیا نوعیت ہوگی؟قرآن وسنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں میت کے ترکہ میں جو سامان ہے اس کی قیمت لگوا کر حقوق متقدمہ علی المیراث(تجہیز و تکفین ،قرض اور جائز وصیت)کی ادائیگی کی جائے ۔اس کے بعد بقیہ مال کے برابر “بارہ” حصے کئے جائیں ،جن میں سے تین حصے مرحوم کی بیوہ کو ،دو حصے مر حوم کی والدہ ،اور سات حصے مرحوم کے والد کو دئیے جائیں۔

نقشہ تقسیمِ میراث حسب ِ ذیل ہے

اخ4 اب ام زوجہ
م ع سدس ربع
  7 2 3

          واضح رہے کہ شریعت ِمطہرہ میں میراث کے احکام میت کے ترکہ میں جاری ہوتے ہیں ،یعنی جو اموال بوقتِ وفات میت کی ملکیت میں داخل ہوں ،اور جو اموال بوقت وفات اس کی ملکیت میں داخل  نہ ہوں بلکہ وفات کے بعد ورثاءکو دئے جائیں وہ ترکہ میں شمار نہ ہونگے۔لہذا صورتِ مسؤلہ میں جو “پچاس ہزار روپے”محکمے کی طرف سے دئے گئے ان کے بارے میں محکمے کے ضابطے کے مطابق عمل کریں

تبیین الحقائق (7/471) العلمیة بیروت
قال رحمه اللہ تعالیٰ ( یبدا من ترکة المیت بتجھیزہ)والمراد من الترکۃ ما ترکه المیت خالیاً عن تعلق حق الغیر بعینه۔
البحر الرائق (9/365) رشیدیة
قال رحمه اللہ تعالی : (یبدا من ترکة المیت بتجھیزہ)المراد من الترکة ما ترکه المیت خالیاً عن تعلق حق  الغیر بعینه۔
حاشیہ الاختیار لتعلیل المختار (2 554) حقانیه پشاور
قال ( یبدا من ترکة المیت بتجھیزیه ودفنه علی قدرھا ثم تقضی دیونه ثم تنفذ و صا یاہ من ثلث ماله، ثم تقسم الباقی بین ورثته)فھذہ الحقوق الاربعة تتعلق بترکة المیت علی ھذا الترتیب۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس