ان مسائل سے پہلے بطورِ تمہید عرض ہے کہ ہمارا بچپن معاشی تنگدستی میں گزرا، والد صاحب گھر کے واحد کفیل تھے اس لیے معاشی حالات کافی خراب رہے ، جو نہی میں تھوڑا بڑا ہوا تو محنت کر کے ایک دکان کھولی اور حالات کافی بہتر ہوئے، والدہ محترمہ چونکہ وفات پاچکی تھیں اسی لیے والد صاحب کی ایک جوان خاتون سے شادی بھی کرائی اور اس خاتون سے ان کی اولاد بھی ہے، نیز والد صاحب، ان کی دوسری اہلیہ اور ان کی اولاد کا تمام خرچ میں برداشت کرتا ہوں، لیکن اس سب کے باوجود والد صاحب معمولی غلطی پر سخت سرزنش کرتے ہیں مثلا : کاروباری معاملات جن کا انہیں تجربہ نہیں ان میں بات کرنے سے منع کیا جائے تو وہ اس بات کو اپنی توہین سمجھتے ہیں اور سخت ناراض ہو کر بد دعائیں دیتے ہیں ، اسی طرح دکان سے بغیر اجازت اور بنا بتائے قیمتی اشیاء اٹھا کر فروخت کر دیتے ہیں اور ان کے پیش نظر یہ حدیث ہوتی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ : تم اور تمہارا مال تمہارے والد کے لیے ہے۔ ان تمام واقعات کے تناظر میں راہنمائی فرمائیں کہ کیا والد صاحب کی اس طرح ناحق بدعائیں قبول ہو کر ہمارے لیے وبال کا ذریعہ تو نہیں بنیں گی ؟ اسی طرح مذکورہ حدیث کو مد نظر رکھتے ہوئے والد صاحب کا بغیر اجازت اشیاء فروخت کرنا جائز ہے؟ نیز اس بابت بھی راہنمائی فرمائیں کہ والد صاحب کی دوسری اہلیہ اور اس کی اولاد کا خرچ ہم پر لازم ہے یا نہیں؟ اور اگر ہم نفقہ نہ دیں تو گناہگار ہوں گے ؟
قرآن و سنت کی روشنی میں والدین کی فرمانبرداری اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ اگر وہ ناگوار بات کہہ دیں تو برداشت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر ان کو کسی فعل سے روکنا ہو تو نرمی واخلاق کے ساتھ منع کیا جائے ، اخلاق سے پیش آنے کے باوجود آپ کے والد صاحب آپ کو جو بد دعائیں دیتے ہیں اللہ تعالی سے امید ہے ان کی یہ بد دعائیں آپ کے لیے کسی قسم کے وبال کا ذریعہ نہیں بنیں گی، نیز آپ کے والد کے لیے مذکورہ حدیث ( تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کے لیے ہے) کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آپ کی دکان سے اشیاء فروخت کرنا درست نہیں ، اس حدیث کا صحیح مطلب یہ ہے کہ والد اگر محتاج ہو تو بیٹے کی مملو کہ اشیاء سے بقدر حاجت بغیر اجازت کے استعمال کر سکتا ہے ، اس طرح والد صاحب کی دوسری اہلیہ اور اس کی اولاد کا نفقہ آپ پر لازم نہیں ، لہذا ان کا نفقہ نہ دینے کی صورت میں آپ گناہ گار نہ ہوں گے ، البتہ اگر آپ کے والد خود صاحب مال نہیں تو ان کا نفقہ آپ کے ذمہ لازم ہے ، اور سوتیلی والدہ اور ان کے بچوں کی دیکھ بھال کرنا بھی آپ کے لیے باعثِ اجر و ثواب ہے۔
كما قال الله : [الإسراء: 23، 24]
{وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (23) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا (24)}
مسند أحمد (٥٠٣/١۱) مؤسسة الرسالة
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم يخاصم أباه، فقال : يا رسول الله، إن هذا قد اجتاح مالي ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “أنت ومالك لأبيك۔
التفسير المظهري (٣٣٦/١) مكتبة الرشدية
و كان مقتضى هذه الأحاديث ثبوت الملك للاب في مال الابن لكنه مصروف عن الظاهر بالإجماع وبدلالة اية الميراث ونحو ذلك فمعناه يجوز الوالد التملك عند الحاجة فيجب نفقتهما على الولد لا يشاركهما غيره من الورثة وإذا لم يثبت النفقة بناء على الإرث لا يعتبر فيه طريقة الإرث۔
عمدة القاري (۳٩/١٣) دار إحياء التراث العربي
وفيه : أن دعاء الأم أو الأب على ولده، إذا كان بنية خالصة، قديجاب، وإن كان في حال الضجر ۔
بدائع الصنائع (٣٤/٤) : دار الكتب العلمية
رجل معسر عاجز عن الكسب وله ابن معسر عاجز عن الكسب أو هو صغير وله ثلاثة إخوة متفرقين فنفقة الأب على أخيه لأبيه وأمه وعلى أخيه لأمه أسداسا : سدس النفقة على الأخ لأم وخمسة أسداسها على الأخ لأب وأم، ونفقة الولد على الأخ لأب وأم خاصة ، لأن الأب يحوز جميع الميراث فيجعل كالميت فيكون نفقة الأب على الأخوين على قدر ميراثهما منه وميراثهما من الأب هذا۔