میری والدہ سخت بیمار تھیں ، ان کی حالت بہت زیادہ تشویشناک تھی اور وہ موت و حیات کی کشمکش میں تھیں تو اس تشویشناک حالت کو دیکھ کر میں نے یہ منت مانی کہ میری والدہ بچ جائیں تو اللہ کے راستے میں ایک جانور(بھینسا) دوں گا۔والدہ تھوڑی بہت بہتر ہوئیں ،موت ٹل گئی اور وہ بے چینی اور تشویش کی حالت ختم ہوگئی اور اس کے بعد وہ تئیس دن زندہ رہیں اور تئیس دن بعد ان کا انتقال ہو گیا ۔ کیا اب اس صورت میں منت کو پورا کرنا لازم ہے؟
الدر المختار (3/ 738)
فإن (علقه بشرط يريده كأن قدم غائبي) أو شفي مريضي (يوفي) وجوبا (إن وجد) الشرط
رد المحتار (3/ 738)
(قوله ثم إن المعلق إلخ) اعلم أن المذكور في كتب ظاهر الرواية أن المعلق يجب الوفاء به مطلقا: أي سواء كان الشرط مما يراد كونه أي يطلب حصوله كإن شفى الله مريضي أو لا كإن كلمت زيدا أو دخلت الدار فكذا
بدائع الصنائع (5/ 93)
وإن كان معلقا بشرط نحو أن يقول: إن شفا الله مريضي، إن قدم غائبی علي أن أصوم شهرا، أو أصلي ركعتين، أو أتصدق بدرهم، ونحو ذلك فوقته وقت الشرط، فما لم يوجد الشرط لا يجب بالإجماع.