گزارش یہ ہے کہ ہمارے ایک عزیز کا انتقال 24 جون 2023ء کو ہوا۔
مرحوم کی عمر 63 سال تھی اور وہ کرایہ کے مکان میں اپنی بیوہ والدہ کے ساتھ رہاکرتے تھے۔ والدہ کے انتقال مورخہ 22/ 12/ 20ء کےبعد سے اکیلے رہتے رہے۔ تامرگ بھی یہ ہی صورتحال تھی۔ سابقہ حالات کچھ یوں تھے کہ مرحوم کا 33 سال قبل اپنی شادی کے صرف 7 ماہ بعد ہی اپنی حاملہ بیوی سے نہ معلوم وجوہات کی بناء پر تعلق ختم ہوگیا ۔ چند ماہ بعد بیٹے کی ولادت اپنی نانی کے گھر ہوئی ۔ تا مرگ مرحوم کا ان سے اور ان کا مرحوم سے کوئی رابطہ نہ تھا۔ غالب گمان یہ ہے کہ اسی صدمہ کی وجہ سے ان کا ذہنی توازن خراب ہوگیا اور وہ کسی کام کاج کے قابل بھی نہ رہے۔ گزر اوقات چند عزیز واقارب کی طرف سے مالی امداد پر تھا ۔
راقم الحروف کو مرحوم کی والدہ نے جو ( میری حقیقی خالہ تھیں) اور میرا ان کے ہاں جانا رہتاتھا۔نے ایک مرتبہ بتایا کہ مرحوم کہتاہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی۔تقریباً ایک سال قبل مرحوم کے ایک بھانجے کے ذریعے ان کے بیٹے کا پتہ لگایا جو اسلام آباد میں ملازم ہے اس کے بھانجے نے بڑی حکمت اور دانائی کے ساتھ وہاں جا کر مرحوم کے بیٹے سے ملاقات کی اور اس کے والد کے کچھ حالات بتائے تو اس نے کسی قسم کی دلچسپی لیے بغیر یہ کہا کہ اچھا کبھی لاہور آئے تو دیکھیں گے۔
اس ملاقات کے بعد سے اپنا تعارف بھی ہٹا دیا لیکن چونکہ موبائل نمبر موجود تھا اس لیے اس کے والد کے انتقال کی اطلاع اسے دیدی گئی۔ اور تدفین کا بھی بتادیا کہ اگلے روز یعنی 25۔6۔2023 ءکو کی جائےگی تم بھی شرکت کرلو۔ لیکن اس نے شرکت نہیں کی۔ بہرحال الحمد للہ تدفین تو بہ احسن ہوگئی ۔ اب دریافت طلب مسائل درج ذیل ہیں۔ براہ کرام راہ نمائی فرمادیجئے۔ اللہ پاک آپ کو بہت ہی جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین
مرحوم کے کمرے میں کچھ سامان جس میں: ایک عددفرج ،ایک جستی صندوق، دوعدد پنکھے،ایک چارپائی ،دو عددلوہے کی الماریاں اور کچھ نقد رقم کے علاوہ استعمال کےنئے اور پرانے کپڑے ،جوتی ، لحاف ، گدا، دینی رسالے وغیر ہ موجود ہیں۔ یہ تمام سامان مرحوم کی والدہ کی وفات 22۔12۔ 20 ء کے وقت بھی موجود تھا۔ اس لیے یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سامان مرحومین میں سے کس کی ملکیت تھی؟
نمبر۱۔ اب یہ موجود سامان مستحقین کو دیدیا جائے اور رقم کسی صدقہ جاریہ میں لگا دی جائے تو مناسب ہے یا نہیں؟
نمبر ۲۔ یا پھر مرحوم کے بیٹے اورا س کی والدہ سے ایک مرتبہ پھر کوشش کر لی جائے کہ کسی نہ کسی ذریعے سے ملاقات ہوجائے تو کیا باتیں پوچھ لی جائیں اور اس کی روشنی میں شریعت کے مطابق اقدامات کرلیے جائیں۔
نمبر۳۔ نقد رقم میں سے تجہیز وتدفین کے اخراجات اور وفات کےبعد سے جب تک یہ سامان سمیٹ نہ لیا جائے اس وقت کا کرایہ مکان جو تقریباً 3، 4 ماہ بنےگا لیا جاسکتاہے یا نہیں۔
وضاحت : مرحوم کی والدہ کی تین بیٹیاں اور تھیں ایک بیٹی والدہ کی زندگی میں فوت ہوگئی۔ دوسری والدہ کی وفات کےبعد فوت ہوگئی تیسری ابھی بھی حیات ہے ۔والسلام
سوال میں ذکرکردہ تفصیل اور زبانی صورتِ حال کی روشنی میں صورتِ مسئولہ کے جوابات درج ذیل ہیں:
نمبر۱،۲۔ واضح رہے کہ مرحومہ کے کمرہ میں موجود مذکورہ اشیاء کا مرحومہ کا ترکہ قرار دینے کےلئے اس کی حتمی ملکیت کایقینی طور پر یا قرائن (ثبوت وشواہد یا استعمال کا موزون استعمال کس کےلئےہے)سے معلوم کرنا ضروری ہے لہذا حتی الامکان مرحوم کی والدہ کے دیگر زندہ ورثاء سے پوچھ کر یا دیگر ذرائع سے معلوم کرکے مرحومہ کی ملکیت متعین اور الگ کرلیں پھر مرحومہ کے مرحوم بیٹے کے علاوہ باقی ورثاء(زندہ بیٹی، ماں کے بعد فوت ہونے والی بیٹی کے ورثاء)کوئی چیز لے کر مرحومہ کے بقیہ ترکہ سے مرحوم بیٹے کےورثاءکے حق میں اگر رضامندی اور خوشی سے دستبردار ہوناچاہیں تو ان سے دستبرداری لےلی جائے، جس کے بعد تمام ترکہ مرحوم بیٹے کے ورثاء کی طرف منتقل ہوجائے گا۔ اس کے بعد حتی الامکان کوشش کرکے وہ ترکہ متعلقہ وارث تک پہنچانے کا اہتمام کیاجائےخواہ اس کو نقدی میں تبدیل کرکے اس کے اکاؤنٹ میں بھیجنا پڑے ۔ لیکن اگر وہ اس کو لینے پر آمادہ نہ ہو تو ان سے کسی بھی مناسب طریقہ سے اس کی مال میں تصرف کا اختیار حاصل کرنے پر وکالت اور اجازت لےلی جائے، جس کے بعد اس مال کو صدقہ جاریہ والے کام میں لگایاجاسکتاہے۔تاہم اگر یہ صور ت بھی کا رگر نہ ہو رہی تو پھر وہ مال شرعًا لقطہ اور امانت کے حکم میں ہوگا اور اس کی دیکھ بھال کرنے والے کو اختیار ہوگا کہ وہ جہاں مناسب سمجھے وہاں صدقہ کردے ۔
نمبر۳۔ترکہ میں سے تجہیز وتکفین کے اخراجات اور ابتک مکان کا سابقہ واجب الاداء کرایہ لیناجائزہے اور کو شش کرکے مرحوم کے گھریلوں سامان بیچ کر نقدی میں تبدیل کر لیاجائے تاکہ آئندہ کے کرایہ ترکہ کے مال کوختم نہ کردے۔
: المبسوط للسرخسي (30/ 205) دار المعرفة
وإذا كانت الورثة كبارا غيبا وليس على الميت دين ولا وصية فللوصي أن يبيع الرقيق والمتاع استحسانا؛ لأن له ولاية الحفظ إلى أن يحضر الغائب، وبيع المنقول من الحفظ فإن حفظ الثمن ربما يكون أيسر من حفظ العين، وإنما تثبت هذه الولاية نظرا للغائب، ولو أنهم نهوه عن البيع فباعه بعد ذلك لم يجز بيعه؛ لأنه إنما ثبتت له الولاية لأجل النظر لهم إذا لم يوجد منهم النهي عن ذلك نصا بخلاف ما إذا كان على الميت دين فهناك إنما يثبت له حق التصرف نظرا للذي أقامه مقام الميت فنهي الورثة إياه عن البيع لا يصح۔
:الدر المختار (5/ 642)سعيد
فصل في التخارج: (أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه (قل) ما أعطوه (أو كثر)۔
:المبسوط للسرخسي (11/ 3)دارالمعرفة
قال في اللقطة: يعرفها حولا، فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها، فإن جاء صاحبها فهو بالخيار إن شاء أنفذ الصدقة، وإن شاء ضمنه…..والتقدير بالحول ليس بعام لازم في كل شيء، وإنما يعرفها مدة يتوهم أن صاحبها يطلبها وذلك يختلف بقلة المال وكثرته۔
:الدر المختار (4/ 276) سعيد
اللقطة….مال يوجد ولا يعرف مالكه، وليس بمباح كمال الحربي. وفي المحيط (رفع شيء ضائع للحفظ على غير لا للتمليك) وهذا يعم ما علم مالكه كالواقع من السكران، وفيه أنه أمانة لا لقطة لأنه لا يعرف بل يدفع لمالكه۔
:رد المحتار (4/ 276) سعيد
(قوله: وفيه أنه أمانة لا لقطة إلخ) فيه نظر، فإن اللقطة أيضا أمانة، وعدم وجوب تعريفه لا يخرجه عن كونه لقطة كما قدمنا؛ لأنه وإن علم مالكه فهو مال ضائع: أي لا حافظ له۔
:الموسوعة الفقهية(26/327)
أن يكون مالكا للمال المتصدق به أو وكيلًا عنه فلا تصح الصدقة من مال الغير لالا وكالة. ومن فعل ذلك يضمن ما تصدق به لأنه ضيع مال الغير على صاحبه بغير إذنه۔
:شرح القواعد الفقهية (ص: 437) دار القلم
(” الغرم بالغنم “) (الشرح، مع التطبيق)
“الغرم ” وهو ما يلزم المرء لقاء شيء، من مال أو نفس، مقابل ” بالغنم ” وهو ما يحصل له من مرغوبه من ذلك الشيء. أفادت هذه المادة عكس ما أفادته المادة الخامسة والثمانون. ثم لا فرق في الغرم بين أن يكون مشروعا كمؤونة تعمير الملك المشترك فإنها عليهم بمقابلة انتفاعهم به انتفاع الملاك. وكمؤونة تعمير من يرغب من الموقوف عليهم في سكنى العقار الموقوف لسكناهم، فإنها عليهم بمقابلة سكناهم فيه. – وكمؤونة كري النهر المشترك وتعمير حافاته وتطهير مائه، فإنها على الشركاء فيه بمقابلة انتفاعهم بحق الشرب.- وكمؤونة كري السياق المالح المشترك فإنها على الشركاء بمقابلة انتفاعهم بحق التسييل۔