آج کل نہروں میں پانی وافر مقدار میں موجود ہوتا جو ضائع ہو جاتا ہے نہر کا بیلدار ایک آدمی سے کہتا ہے کہ آپ پائپ لگا کر پانی نکال لیں تو کیا اس آدمی کے لیے پانی نکالنا جائز ہے؟ راہ نمائی فرمائیں۔
مذکورہ صورت میں اپنی یا جانوروں کی ضرورت کے لیےپانی لے سکتے ہے،لیکن حکومت کی اجازت کے بغیر زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی لینا جائز نہیں ہے۔
تکملة فتح الملھم (1/333) مکتبه دار العلوم کراتشی
واما الانھارالصغیرۃ التی تکریھا الحکومات لسقی المزارع ۔فانھا مملوکة للحکومات، وقیاس ماذکرنا ان یکون ماؤھا فی حکم ماء البئر المملوکة، فلا یجوز للحکومة ان تمنع احدا من الشرب او من سقی الدوابه منھا، ولکنھا تستطیع ان تمنع من سقی مزارعھم منھا۔
الفتاوی الھندیة (5/375) دارالکتب العلمیة
والثالث ما يجري على نهر خاص لقرية فلغيرهم فيه شركة في الشفة وهو الشرب وسقي الدواب۔
در المختار (10/23،24) رشیدیة
(نهر بين قوم اختصموا في الشرب فهو بينهم على قدر أراضيهم) لأنه المقصود (بخلاف اختلافهم في الطريق فإنهم يستوون في ملك رقبته) بلا اعتبار سعة الدار وضيقها لأن المقصود الاستطراق (وليس لأحد من الشركاء) في النهر (أن يشق منه نهرا أو ينصب عليه رحى) إلا رحى وضع في ملكه ولا يضر بنهر ولا بماء. ۔