بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نعمت ملنے پر بطور شکرانہ نفل پڑھنے کی نیت کرنے سے نذر کا حکم

سوال

ایک شخص کو نعمت ملی،اس نے بطور شکرانہ نفل ادا کرنے کی نیت کی تو کیا اس نیت سے نفل ادا کرنا لازم ہوئے یا نہیں ۔

جواب

ذکر کردہ شخص پر نفل کی ادائیگی لازم نہیں ۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/  81)
 فركن النذر هو الصيغة الدالة عليه وهو قوله: ” لله عز شأنه علي كذا
الفتاوي البزازيۃ  فی حاشية الهنديۃ(۱/ ۲۳۱)العلمیۃ
إن عوفیت صحت کذ لم یجب لہ ما لم یقل للہ علي، وفي الاستحسان یجب ،وإن لم یکن تعلیقا لایجب قیاسا واستحسانا
الھندیة (۱/ ۲۲۹)العلمیة
الأصل أن النذر لایصح إلا بشروط (أحدھا)أن یکون الواجب من جنسہ شرعا… (والثانی)أن یکون مقصودا… (والثالث) أن لایکون واجبا في الحال … (والرابع)أن لایکون المنذور معصیۃ
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس