کیا فرماتے ہیں علماء شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ : ایک عورت نے نذر مانی کہ اس کے دونوں بیٹے بخیر و عافیت سعودیہ سے واپس آ گئے تو وہ ایک جانور ذبح کرے گی ،پھر اس کا ایک بیٹا اس کی زندگی میں آگیا تھا اور دوسرے کے آنے سے پہلے اس عورت کا انتقال ہوگیااور اس کے بیٹے اس وقت تنگد ستی کی وجہ سے نذر پوری نہ کر سکے ،اب ان کے ذمہ نذر لازم ہو گی یا نہیں اگر ہو گی تو ذبح کرناضروری ہے یا اس کی قیمت بھی ادا کر سکتے ہیں؟ اور اس کو قریبی رشتہ دار اور آسودہ حال لوگ بھی کھا سکتے ہیں یا نہیں اگر لازم نہ ہو مستحب ہو تو پھر اس کی کیا صورت ہو سکتی ہے اسے اسی طرح دینا ضروری جیسا اس نے نذر مانی ہے ؟ اور اس مستحب ہونے والی صورت میں قریبی رشتہ ار اور مال دار لوگ شرکت کر سکتے ہیں ؟
الفتاوى الهندية (1/ 210) دار الفكر
المريض لو قال لله علي أن أصوم شهرا فمات قبل أن يصح لا يلزمه شيء۔
المحيط البرهاني (2/ 392) دار الكتب العلمية
إنما الخلاف في المريض إذا نذر بصوم شهر، فمات قبل أن يصح لم يلزمه شيء، وإن صح يوماً يلزمه أن يوصي بجميع الشهر في قول أبي حنيفة، وأبي يوسف، قال محمد: يلزمه بقدر ما صح۔
العناية (2/ 353) دار الفكر
یقول المريض: لله علي أن أصوم شهرا، فإذا مات قبل أن يصح لم يلزمه شيء۔