بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نذرماننےوالےاورسیّدکےلیےنذرکاگوشت كهانا

سوال

ایک خاتون نےنذرمانی کہ اگرمیراپوتاصحیح سلامت گھرواپس آیاتومیں گائےذبح کروں گی اور بعد میں اس کاپوتااللہ کےفضل سےصحیح سلامت گھرلوٹ آیا ۔اب معلوم یہ کرناہےکہ کیااس صورت میں نذرماننےوالی عورت ،اس کےگھرکےدیگرلوگ اورسیدحضرات کےلئے اس نذرکاگوشت کھاناجائزہےیانہیں؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں نذر ماننے والی خاتون،اس کے بیٹوں ، بیٹیوں اور ان کی اولاد کے لئے ، اسی طرح اس خاتون کے شوہر ،والد اور والدہ اگرحیات ہیں تو ان کے لئے اور سید اورمالدارکے لئے نذر کا گوشت کھاناجائز نہیں ، ممنوع ہے ۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(6/321)سعيد
ولا يأكل الناذر منها؛ فإن أكل تصدق بقيمة ما أكل۔
ردالمحتار،العلامةابن عابدين(م: 1252هـ)(2/339)سعيد
باب المصرف(قوله:أي مصرف الزكاة والعشر)…وهومصرف أيضالصدقة الفطروالكفارة والنذروغيرذلك من الصدقات الواجبة كمافي القهستاني۔
الدرالمختار،العلامة علاءالدين الحصكفي(م: 1088هـ)(2/351)سعيد
(وجازت التطوعات من الصدقات و) غلة (الأوقاف لهم) أي لبني هاشم۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(2/351)سعيد
(قوله: وجازت التطوعات إلخ) قيد بها ليخرج بقية الواجبات كالنذر والعشر والكفارات وجزاء الصيد إلا خمس الركاز فإنه يجوز صرفه إليهم كما في النهر عن السراج۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس