ایک آدمی کےبینک اکاؤنٹ میں تین لاکھ روپے آئے ہیں بینک والوں سے معلوم کرنے کےباوجود معلوم نہیں ہوسکا کہ کس نے کہاں سے بھیجے ہیں ۔اب یہ شخص ان پیسوں کا کیا کرے؟کیا اس کےلیے ان پیسوں کو کاروبار میں لگانا جائز ہے کہ نہیں جواز کی صورت میں نفع کس کاہوگا۔ ارادہ یہ ہے کہ گھر میں پیسے محفوظ نہیں اس طرح محفوظ بھی ہوجائیں گے اور اگر مالک آئےگا تو یہ رقم اس کو نفع کےساتھ واپس کردی جائےگی؟
موجودہ دور میں اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کرنے والے کا پتہ کرنا مشکل نہیں،لہٰذا اولاً آپ پر ضروری ہے کہ آپ پیسے ٹرانسفر کرنے والے کا کسی ذریعہ سے معلوم کریں اور اگر آپ کو باوجود پتہ کرنے کے معلوم نہیں ہورہا تو ان پیسوں کی تشہیر کریں اور تشہیر کےبعد بھی مالک کا پتہ نہ چلے تو پھر اس رقم کو بلا نیت ِ ثواب صدقہ کردیں پھر اگر مالک کاپتہ چل جائے یا وہ مالک آجائے اور اس صدقہ پر راضی ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ اتنی رقم اس کو واپس کرنا ضروری ہے۔
المبسوط للسرخسي (11/ 4) رشیدیة
فأما (النوع الثاني) وهو ما يعلم أن صاحبه يطلبه فمن يرفعه فعليه أن يحفظه ويعرفه ليوصله إلى صاحبه، وبدأ الكتاب به ورواه عن إبراهيم قال في اللقطة: يعرفها حولا، فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها، فإن جاء صاحبها فهو بالخيار إن شاء أنفذ الصدقة، وإن شاء ضمنه۔۔۔ أن الملتقط ينبغي له أن يعرف اللقطة، والتقدير بالحول ليس بعام لازم في كل شيء، وإنما يعرفها مدة يتوهم أن صاحبها يطلبها وذلك يختلف بقلة المال وكثرته
الفتاوى الهندية (2/ 308) دارالکتب العلمیة
ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح، كذا في مجمع البحرين ولقطة الحل والحرم سواء، كذا في خزانة المفتين، ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده فإن ضمن الملتقط۔