ایک مسئلہ پوچھنا چاہتاہوں ایک آدمی کی اولاد نہ ہو جبکہ اس کے بھتیجے ہوں سنبھالنے کےلیے کوئی تیار نہ ہو اور اس نے ایک آدمی کو کاروبار کےلیے پیسے دیئے ہوئے تھے اسی نے اس کو آخری وقت میں ہسپتال بھی پہنچایا اور سنبھالا بھی ہے اور بھتیجوں نے اس کے ساتھ بہت براسلو ک بھی کیا ہے ۔ آیا ان پیسوں کا کیا حکم ہے کہ ورثاء کو دیئے جائیں یا کسی مسجد مدرسہ میں لگادینے چاہئیں۔ راہ نمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں میت نےجتنامال چھوڑا ہے اس سےحقوق متقدمہ علی المیراث(تجہیز وتکفین، قرض اورایک تہائی مال میں وصیت) اداء کرنےکےبعدجتنامال بچ جائے وہ مرحوم کےشرعی ورثاء کودیاجائےگااگرچہ ورثاء نےمرحوم کےساتھ اچھا سلوک نہ بھی کیا کیونکہ بالغ ورثاء کی رضامندی کےبغیرترکہ مسجد ، مدرسہ یاکارخیرمیں دیناجائزنہیں ہے۔
فی الھندیة (6/497) بیروت
التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف۔۔
فی الھندیة (6/497) بیروت
والوارثون أصناف ثلاثة: أصحاب الفرائض والعصبات وذوو الأرحام، كذا في المبسوط والمستحقون للتركة عشرة أصناف مرتبة، كذا في الاختيار شرح المختار فيبدأ بذي الفرض ثم بالعصبة النسبية ثم بالعصبة السببية۔
رد المحتار (6/774) سعید
ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب۔