بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نافرمان بھتیجوں کےلیے میراث کا حکم

سوال

ایک مسئلہ پوچھنا چاہتاہوں ایک آدمی کی اولاد نہ ہو جبکہ اس کے بھتیجے ہوں سنبھالنے کےلیے کوئی تیار نہ ہو اور اس نے ایک آدمی کو کاروبار کےلیے پیسے دیئے ہوئے تھے اسی نے اس کو آخری وقت میں ہسپتال بھی پہنچایا اور سنبھالا بھی ہے اور بھتیجوں نے اس کے ساتھ بہت براسلو ک بھی کیا ہے ۔ آیا ان پیسوں کا کیا حکم ہے کہ ورثاء کو دیئے جائیں یا کسی مسجد مدرسہ میں لگادینے چاہئیں۔ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں میت نےجتنامال چھوڑا ہے اس سےحقوق متقدمہ علی المیراث(تجہیز وتکفین، قرض اورایک تہائی مال میں وصیت) اداء کرنےکےبعدجتنامال بچ جائے وہ مرحوم کےشرعی ورثاء کودیاجائےگااگرچہ ورثاء نےمرحوم کےساتھ اچھا سلوک نہ بھی کیا کیونکہ بالغ ورثاء کی رضامندی کےبغیرترکہ مسجد ، مدرسہ یاکارخیرمیں دیناجائزنہیں ہے۔
فی الھندیة (6/497) بیروت
التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف۔۔
فی الھندیة (6/497) بیروت
والوارثون أصناف ثلاثة: أصحاب الفرائض والعصبات وذوو الأرحام، كذا في المبسوط والمستحقون للتركة عشرة أصناف مرتبة، كذا في الاختيار شرح المختار فيبدأ بذي الفرض ثم بالعصبة النسبية ثم بالعصبة السببية۔
رد المحتار (6/774) سعید
ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس