بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نابالغ بچوں اور بچیوں کو مارنے کا حکم

سوال

اسلام میں بچوں پر اصلاح کی غرض سے ہاتھ اٹھا نے کے کیا احکامات ہیں ؟ اور جو بھی احکامات ہیں کیا وہ یکساں بچے اور بچیوں دونوں کے لیے ہیں ،یا بچیوں کے لیے کچھ نرمی والا معاملہ ہے ،اور یہ احکا مات کس عمر سے کس عمر تک کے لیے ہیں؟

جواب

والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں کی تربیت میں حتی الوسع ما رپیٹ سے اجتنا ب کریں ۔عمومًا اس کے اثرات اچھے نہیں ہوتے ، البتہ جہاں سزاء کے بغیر کوئی چارہ نہ ہووہا ں اس بات کا خیا ل رکھنا ضروری ہے کہ چھوٹے بچوں اوربچیوں کو قمچی،چھڑی ، پائپ ، تار اور کوڑے و غیرہ سے سزاء نہ دی جائے ۔بلکہ ان كےعمراورجسامت كالحاظ ركھتےہوئے ان کے تحمل کے مطابق صرف ہاتھ سے اس طرح چپت مار سکتا ہے کہ اس سے جسم پر اثر نہ پڑے اور تین دفعہ سے زیا دہ نہ ماریں ۔نیز سر اور چہرہ پر بھی نہ مارے۔ واضح رہے کہ حد سے زائد مارنے پر یہ بچےبروز قیا مت قصاص لیں گے۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088ھ)(1/351)سعيد
(هي فرض عين على كل مكلف)… (وإن وجب ضرب ابن عشر عليها بيد لا بخشبة) لحديث «مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع، واضربوهم عليها وهم أبناء عشر»۔
 رد المحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م: 1252ھ)(1/352)سعيد
(قوله:بيد) أي ولا يجاوز الثلاث، وكذلك المعلم ليس له أن يجاوزها «قال-عليه الصلاة والسلام- لمرداس المعلم إياك أن تضرب فوق الثلاث، فإنك إذا ضربت فوق الثلاث اقتص الله منك» اه إسماعيل عن أحكام الصغار للأستروشني، وظاهره أنه لا يضرب بالعصا في غير الصلاة أيضا.(قوله: لا بخشبة) أي عصا، ومقتضى قوله بيد أن يراد بالخشبة ما هو الأعم منها ومن السوط أفاده ط.(قوله: لحديث إلخ) استدلال على الضرب المطلق، وأما كونه لا بخشبة فلأن الضرب بها ورد في جناية المكلف۔
 شرح سنن أبي داود،العلامة علاء الدين الحصكفي الحنفي (م: 1088ھ)(ص: 2)دار الكتب العلمية
وقد أورد أبو داود رحمہ اللہ حديث سبرة بن معبد الجہني رضي اللہ عنہ أن النبي صلى اللہ عليہ وسلم قال: (مروا الصبي بالصلاة إذا بلغ سبع سنين، وإذا بلغ عشر سنين فاضربوہ عليہا) يعني أنہ يؤمر كلاماً وترہيباً وحثاً إذا بلغ سبع سنين، والأمر بالصلاة يكون بتعليمہ إياہا وكيفيتہا وكذلك ما يسبقہا من وضوء وما إلى ذلك، وإذا بلغ عشر سنين وحصل منہ تہاون فيہا أو امتناع عن أدائہا فإنہ يضرب على ذلك ضرباً غير مبرح ينفعہ ولا يضرہ، ينفعہ في الزجر والتخويف والردع، ولا يضرہ بأن يلحق بہ ضرراً في جسمہ أو في أعضائہ، فيضرب ضرباً غير مبرح ينفع ولا يضر؛ لأنہ لا يكلف إلا إذا بلغ۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

6

/

37

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس