میں نے 9 نومبر 2016 ء بروز بدھ شام کے وقت اپنی بیوی کو ٹیلی فون پر غصہ کی حالت میں کہا کہ ” میں ابھی فیصلہ دینے لگاہوں ، میں نے تمہیں فیصلہ دے دیا ہے ، میری طرف سے تو فا رغ ہے ، ابھی اپنے ماں باپ کے گھر چلی جا ” پھر دوبارہ میں نے کہا کہ “اب تو میری طرف سےفارغ ہو گئی ہے،یہاں ( میرے گھر میں ) کیا کررہی ہے ، چلی جا” اس کے بعد فون پر ہی اپنی والدہ کو بتایا کہ” میں نے اسے فارغ کردیا، اسےکہو گھر چلی جائے ” پھر یہ صورت حال میں نے اپنے بھائی کو اور کچھ لو گوں کو بتائی ۔ واضح رہے کہ والدہ ، بھائی وغیرہ کو بتاتے ہوئے نئی طلاق دینے کی نیت نہیں تھی صرف خبر دینا مقصد تھا۔
صورت مسئولہ میں شوہر کے بیان کے مطابق ایک طلاق بائن واقع ہو گئی ہے، جبکہ بیوی کے بیان کے مطابق دو طلاق بائن واقع ہو گئیں ہیں ۔ لہذا اگر دو نو ں اکٹھے رہنے پر آما دہ ہو ں تونئےمہرکے عوض نیا نکاح کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ بشرطیکہ اس کےعلا وہ طلاق کے کوئی اور الفاظ نہ کہے ہوں ،البتہ آئندہ بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہے ، اگر ایک مر تبہ بھی مزید طلاق دے دی تو عورت کے حق میں تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہو جائے گی ۔