صورتِ مسئولہ میں سیاق وسباق کی روشنی میں غالب یہی ہے کہ “باقی” سے شوہر کی مراد طلاق ہی ہے،کوئی اور لین دین نہیں ہے۔ اگرواقعۃًکوئی اور لین دین مراد نہیں تھا ،”باقی “کے لفظ سے شوہر کامقصد بقیہ دو طلاق دینا ہی تھا تو ایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت ِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے؛ لہٰذاوہ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہو چکے ہیں ،اب ان کے لئے ایک ساتھ رہناجائزنہیں۔ موجودہ صورتِ حال میں نہ تووہ آپس میں رجوع کرسکتے ہیں اور نہ ہی نیانکاح کرکے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ وہ عورت عدت طلاق گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکا ح کرسکتی ہے۔