ایک آدمی نےقسم کھائی کہ میں اپنےوالدکی جائیداد اورمال میں سےکچھ نہیں لوں گااگرلےلیا تو میری بیوی کوتین طلاق ہے۔باپ اگراپنی بہویعنی اس کی بیوی یااس بیٹےکی اولاد کےنام جائیداد وغیرہ کردے یااپنی بیٹی کےنام کردےاوربیٹی اپنےمذکورہ بھائی کوہبہ کردےیااپنی بیٹی کےنام کردےاس بیٹی کاشوہراپنے برادر نسبتی کے نام کردےتوکیامذکورہ صورتوں میں وہ شخص اپنی قسم میں حانث ہوگایانہیں ؟اوراس کی بیوی کوطلاق ہو جائے گی یانہیں؟
صورتِ مسئولہ میں قسم کھانے والے شخص کاوالد اپنی جائیداداورمال سوال میں ذکرکردہ افراد (اپنی بیٹی، یابہویعنی اسی بیٹے کی بیوی یا اپنے داماد)میں سے کسی کومالک اورقابض بناکرہبہ کردے اوراس جائیداد میں والد کا کوئی اختیارباقی نہ رہے(صرف نام کروادیناکافی نہیں)اورپھرجس کویہ جائیدادہبہ کی گئی ہے وہ اسے قسم کھانے والے شخص کوہبہ کردے تواس طرح کرنے سے قسم کھانے والاشخص حانث نہیں ہوگااوراس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔
الاختيار لتعليل المختار،عبد الله بن محمود (م: 683هـ)(4 /59 ) مطبعة الحلبي القاهرة
لو قال: لا آكل مما تملك أو مما ملكت أو من ملكك، فإذا خرج من ملك المحلوف عليه إلى ملك غيره فأكل منه الحالف لم يحنث، لأن الملك إذا تجدد على عين بطلت الإضافة الأولى وصار ملكا للثاني، وكذا لو حلف لا يأكل من ميراث فلان فمات فأكل من ميراثه حنث، وإن مات وارثه فانتقل إلى وارثه لم يحنث، لأن الميراث الآخر نسخ الميراث الأول فبطلت الإضافة إلى الأول
البحر الرائق،ابن نجيم المصري(م: 970هـ)(4 / 367 ) دار الكتاب الإسلامي
ولو حلف لا يأكل من ميراث فلان فمات المحلوف عليه ثم مات وارثه وورثه غيره فأكله الحالف لم يحنث؛ لأن بالإرث الثاني ينتسخ حكم الأول… ولو حلف لا يأكل من ملك فلان أو مما ملكه فلان فخرج شيء من ملكه إلى ملك غيره، وأكله الحالف لا يحنث )
الفتاوى الهندية(2/ 88 )دارالفکر
ولو حلف لا يأكل من ميراث فلان شيئا فمات فلان فأكل من ميراثه حنث فإن مات وارثه فأورث ذلك الميراث فأكل منه الحالف لا يحنث كذا في البدائع