بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

میسج کے ذریعہ طلاق کا حکم

سوال

گذارش ہے کہ میری بیٹی (منہ بولی ) کی شادی مورخہ 18ستمبر2018ءکو مسمی محسن رضا تارڑ سکنہ گجرات سے انجا م پائی تھی ،میری بیٹی آسٹریلیا کی شہری ہے اور آسٹریلیا ہی میں رہائش پذیر ہے ان کا خاوند محسن رضا تارڑ ساؤتھ افریقہ کے شہر ڈربن میں گاڑیو ں کی خریدوفروخت کاکاروبار کرتا ہے شادی کے بعد میاں بیوی کے درمیان اکثر نوک جھونک ہو تی رہتی تھی پھر خود ہی صلح ہو جا تی تھی مورخہ 19/اکتوبر/ 2018ءکو بھی ان کی نوک جھونک ہو ئی تھی اور اس کے خاوند نے ناراض ہو کر بیٹی کے موبائل پر پیغام دیا کہ تم میرے سفر کے لیے ٹکٹ بائی ائیر بھیجو اور اگر تم نے ٹکٹ نہ بھیجا تو تمہیں میری طرف سے طلاق ہے ،یہ میسج تین دفعہ میری بیٹی کے موبائل پرموجود ہے لیکن رقم نہ ہونے کی وجہ سے ٹکٹ لے کر بھیجوانے سے انکار کر دیا ، اب اس کے خاوند کا اصرار ہے کہ وہ کلمہ پڑھ کر کہتا ہے کہ اس نے سچ سچ طلاق کی نیت سے میسج نہیں بھیجا ۔
میسج انگریزی میں ہے اور تین دفعہ درج ہے ۔
Lailah illah muhammadur rasulullah if you do not byy my tickets thew uare divorce from my side.
تنقیح: کیا شوہر کی کوئی مخصوص مدت کی نیت تھی کہ اتنے عر صے میں ٹکٹ بھیجو یا مطلق بغیر کسی مدت کےتحریرکے یہ الفاظ کہے ۔
جوابِ تنقیح : شوہر کے ذ ہن میں کوئی مخصوص مدت مراد نہیں تھی بلکہ ذہن میں یہ تھا کہ جب چاہیں ٹکٹ بھیج دیں ۔ البتہ دونوں یہ جانتے تھے کہ دسمبر سے پہلے شوہر کا آنا بہت مشکل ہے ۔

جواب

ذکر دہ تفصیل اگر واقعہ کے مطابق ہے اورواقعۃ شوہر نے اپنے اس جملہ “اگر تم نے ٹکٹ نہ بھیجا تو ۔۔۔” میں کسی مخصوص وقت مثلا آج یا ایک ہفتہ یا مہینہ کی نیت نہیں کی تھی بلکہ ان کی مراد یہ تھی کہ جب چاہیں ٹکٹ بھیج دیں تو ایسی صورت میں فی الحال کوئی طلاق نہیں ہوئی ،بلکہ بیوی اپنی اور شوہر کی زندگی میں جب بھی ٹکٹ کا انتظام کر کے بھیج دے تو شرط پوری ہو جا ئے گی اور کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی ۔
واضح رہے کہ یہ جواب صرف اس صورت میں ہے جب شوہر نے کسی مخصوص مدت میں ٹکٹ بھیجنا مراد نہ لیا ہو لیکن اگر شوہر کی نیت کسی مخصوص وقت کےاندر اندر ٹکٹ بھیجنے کی ہو اور وہ وقت گزر گیا ہو لیکن بیوی نے ٹکٹ نہ بھیجا ہو تو ایسی صورت میں سوال دوبارہ بھیج کر شرعی حکم معلوم کریں ۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م:1088ھ)(3/ 376)سعيد
[فروع] في أيمان الفتح ما لفظه، وقد عرف في الطلاق أنه لو قال: إن دخلت الدار فأنت طالق، إن دخلت الدار فأنت طالق، إن دخلت الدار فأنت طالق وقع الثلاث۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252ھ)(3/ 377)سعيد
(قوله وقع الثلاث) يعني بدخول واحد كما تدل عليه عبارةأيمان الفتح۔
الدرالمختار(3/ 270)سعيد
(وفي إن لم أطلقك لا) تطلق بالسكوت بل يمتد النكاح (حتى يموت أحدهما قبلھ) أي قبل تطليقه فتطلق قبيل الموت لتحقق الشرط ويكون فارا۔
ردالمحتار(3/ 270)سعيد
(قوله لا تطلق بالسكوت إلخ) لأن شرط البر تطليقه إياها في المستقبل، وهو ممن في كل وقت يأتي ما لم يمت أحدهما فيتحقق شرط الحنث وهو عدم التطليق، وهذا عند عدم النية أو دلالة الفور۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس