ہماری کمپنی نے میزان بینک سے کار اجارہ کے تحت گاڑیاں لیز پرلی ہوئی ہیں اور اس کے جواز کا فتوی میزان کی ویب سائٹ پر موجود ہے جس کی کاپی اور پورے طریقہ کار اور معاہدے کی فو ٹوکاپی بھی موجودہے ۔
نمبر1:۔میزان بینک کے کار اجارہ پروگرام میں گاڑی لیز پر لینے کا شرعی حکم کیاہے ؟
نمبر2:۔کار اجارہ پروگرام میں لیز پرلی جانے والی گاڑی کا دوران مدت معاہدہ گاڑی کا مالک کون ہوتاہے بینک یاجس کے نام پر گاڑی لیز کی گئی ہو۔کار اجارہ میں گاڑی اجارہ پر لینے والا کس مر حلہ پر شرعاًگاڑی کامالک بنتاہے اور اس کو گاڑی آگے کرایہ پر دینےیابیچنے کا مکمل اختیا رحاصل ہو تاہے ؟
نمبر 3:۔ دوران معاہدہ گاڑی اجارہ پر لینے والا اگر بینک کی اجازت یابغیر اجازت گاڑی آگے کسی اور کو استعمال کرنے یاکرایہ پر دے یابیچ دے تو کس درجہ کاگناہ لازم آئے گا اور کیا کوئی ضمان واجب ہوگا؟
نمبر1:۔ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک فی الحال مستند علماء ِ کرام کی زیرِنگرانی اور زیر مشاورت شرعی اصولوں کے مطابق اپنے معاملات انجام دے رہا ہے ، لہٰذا آپ کے لئے میزان بینک سے فی الحال “کاراجارہ اسکیم کے تحت”گاڑی لیز پر لینا شرعاً جائز ہے ۔ البتہ حالات چونکہ بدلتے رہتے ہیں ،اس لئےسال میں ایک مرتبہ دار الافتاء سے اس کے بارے میں معلومات لیتے رہیں۔ تاکہ جو بھی صورتحال ہو اس سے آپ باخبر رہیں ۔
نمبر2،3:۔ایسے اسلامی مالیاتی ادارے جو مستقل طور پر مستند علماء پر مشتمل شرعیہ بورڈ کی نگرانی میں کام کررہے ہو ں (جیسے میزا ن بینک و غیرہ ) ، ان سے کار اجارہ اسکیم کے تحت لی گئی گاڑی شرعاًمعاہدہ کی مدت کے دوران بنک کی ملک ہو تی ہے اور اسی کے ضمان رسک میں ہوتی ہے ،جبکہ مستأجر (کرایہ پر لینے والا)کے پاس صرف اس کاقبضہ اور حق انتفاع ہوتا ہے۔مدت معاہدہ مکمل ہو نے کے بعدجب باہمی رضامندی سے بنک معمولی رقم کے عوض،عقدِ جدیدکے ذریعہ بیع یا ہدیہ کی صورت میں وہ گاڑی مستأجر کو دےتو اس وقت کمپنی مالک ہوگی۔اور آگے اس کو بیچنے کا اختیار ہوگا۔اس سے پہلے فروخت کرنا اوربینک کی اجازت کے بغیر کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے ۔
معاہدہ اجارہ کے دوران بغیر اجازت کے کرایہ پر دینےکی صورت میں نقصان کی ذمہ داری مستاجر پر ہو گی اور اگر اجازت کے ساتھ کرایہ پر دیا ہوتو اس صورت میں کرایہ دار کی کوتاہی کی صورت میں اس پر ضمان لازم ہوگا
الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ) (6/91ھ) دارالفكر
(للمستأجر أن يؤجر المؤجر) بعد قبضه قيل وقبله (من غير مؤجره، وأما من مؤجره فلا) يجوز وإن تخلل ثالث به يفتى للزوم تمليك المالك
الفتاوى الهندية،لجنة العلماء برئاسة نظام الدين البلخي(4/425ھ) دارالفكر
الأصل عندنا أن المستأجر يملك الإجارة فيما لا يتفاوت الناس في الانتفاع به. كذا في المحيط،ومن استأجر شيئا فإن كان منقولا فإنه لا يجوز له أن يؤاجره قبل القبض
المحيط البرهاني،أبوالمعالي برهان الدين محمودبن أحمد(م:616هـ)(7/429ھ) دارالكتب العلمية
قال محمد رحمه الله: وللمستأجر أن يؤاجر البيت المستأجر من غيره، فالأصل عندنا: أن المستأجر يملك الإجارة فيما لا يتفاوت الناس في الانتفاع به؛ وهذا لأن الإجارة لتمليك المنفعة والمستأجر في حق المنفعة قام مقام الآجر، وكما صحت الإجارة من الآجر تصح من المستأجر أيضاً