بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

میری ایک عادت ابلیس جیسی ہے، میں انسانوں کو سجدہ نہیں کرتا، کیا یہ کفریہ جملہ ہے؟

سوال

کسی کا یہ کہنا کہ “میری ایک صفت ابلیس جیسی ہے میں انسانوں کو سجدہ نہیں کرتا “کیا یہ جملہ کفریہ ہے؟

جواب

سوال میں ذکرکردہ جملہ “میری ایک صفت ابلیس جیسی ہے میں انسانوں کو سجدہ نہیں کرتا “سے بظاہریہ معنی مفہوم ہوتے ہیں کہ میں انسانوں کے آگے نہیں جھکتا اور نہ انہیں سجدہ کرتا ہوں،اس معنی کے اعتبار سے میرا یہ وصف ابلیس کی صفت کی مانندہے۔اس تاویل کے اعتبار سے بظاہر یہ کفریہ جملہ نہیں ہے،لہٰذا مذکورہ جملہ کہنے سے کفر لازم نہیں آتا لیکن اس طرح کے غیر محتاط جملے سے مکمل اجتناب ضروری ہے ،اور اگر یہ جملہ شیطان کی کفریہ صفت کو صحیح سمجھتے ہوئے اپنے اندر اپنانے کی نیت سے کہا گیا ہے تواس صورت میں تجدید ایمان اور تجدید نکاح ضروری ہوگا اور توبہ استغفار بھی لازم ہے۔
الهندية(2/301)العلمية
إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر، ووجه واحد يمنع، فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه كذا في الخلاصة في البزازية إلا إذا صرح بإرادة توجب الكفر، فلا ينفعه التأويل حينئذ كذا في البحر الرائق، ثم إن كانت نية القائل الوجه الذي يمنع التكفير، فهو مسلم، وإن كانت نيته الوجه الذي يوجب التكفير لا تنفعه فتوى المفتي، ويؤمر بالتوبة والرجوع عن ذلك وبتجديد النكاح بينه وبين امرأته كذا في المحيط
التاتارخانية(7/281)فاروقيۃ
يجب أن يعلم أنه إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنع التكفير،فعلى المفتي أن يميل الى الوجه الذي يمنع التكفير تحسيناللظن با لمسلم، ثم إن كانت نية القائل الوجه الذي يمنع التكفير، فهو مسلم، وإن كانت نيته الوجه الذي يوجب التكفير لا تنفعه فتوى المفتي، ويؤمر بالتوبة والرجوع عن ذلك وتجديد النكاح بينه وبين امرأته
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس