بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

میت کے داد یا نانا کا میت کے بھائی بہن کو فدیہ دینے کا حکم

سوال

کیا دادا اور نانا کے لیے جائز ہے کہ پوتے (میت) کے فدیہ، پوتے کے بہن بھائی کو دے دیں اگر وہ مستحق ہو۔ کیونکہ بہن بھائی پوتے (میت) کے اصول اور فروع نہیں ہیں اگر چہ وہ دادا اور نانا کے اصول اور فروع ہیں شرعی نقطہ نظر سے کیا حکم ہے؟

جواب

دادا اور نانا تبرعاً مرحوم کی طرف سے فدیہ ادا کر سکتے ہیں اور فدیہ کی رقم مرحوم کے مستحقِ زکوٰۃ بہن بھائیوں کو دی جا سکتی ہے۔
رد المحتار (2/ 643) رشيديه
وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة
الدر المختار (2/ 333) رشيديه
باب المصرف أي مصرف الزكاة والعشر…  (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة
رد المحتار (2/ 333) رشيديه
وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس