مسئلہ یہ پوچھنا تھا کہ میت کے فوت ہونے کے بعد جو میت کا چہرا دیکھا جاتاہے ۔ جیسے عورت کا محرم کو دیکھنا یا عورت کا غیر محرم کو دیکھنا اور مرد کا محرم یا غیر محرم عورت کو دیکھنا ،غسل دینے سے پہلے اور غسل دینےکےبعد شریعت میں کیا حکم ہے؟ اورمیت کی تصویریں اتارنا یا ویڈیو کال پر دیکھانا کیا جائز ہے؟اور عمر رسیدہ عورت کا اس بارے میں حکم ہے؟
غسل دینے سے پہلے اور بعد میت کا چہرہ دِکھانا فی نفسہ جائزاور مباح عمل ہے بشرط یہ کہ اسے باعثِ ثواب نہ سمجھا جائے ، اس کی وجہ سے جنازہ میں غیر معمولی تاخیرنہ ہو اور اس میں ناجائز امور نہ ہوں ، البتہ میت کی تصاویر کھینچنے اور غیر محرم جوان عورت کی میت دیکھنے سے اجتناب کیا جائے بلکہ اگر غیر محرم خاتون عمر رسیدہ ہوتو اس کی میت دیکھنے سے بھی اجتناب کرنا چاہیئے ، اسی طرح عورتوں کوبھی غیر محرم مرد کا چہرہ دیکھنے سے بچنا چاہیئے۔ مذکورہ تفصیل کا لحاظ کرتے ہوئے ویڈیو کال پر چہرہ دِکھانے کی گنجائش ہے لیکن نہ دِکھانا زیادہ بہتر ہے۔
فی الفتاوى الهندية: (5/ 351)
ولا بأس بأن يرفع ستر الميت ليَرى وجهه وإنما يكره ذلك بعد الدفن كذا في القنية۔
وفيه: (5/ 327)
نظر المرأة إلى الرجل الأجنبي كنظر الرجل إلى الرجل تنظر إلى جميع جسده إلا ما بين سرته حتى يجاوز ركبته، وما ذكرنا من الجواب فيما إذا كانت المرأة تعلم قطعا ويقينا إنها لو نظرت إلى بعض ما ذكرنا من الرجل لا يقع في قلبها شهوة، وأما إذا علمت أنه تقع في قلبها شهوة أو شكت ومعنى الشك استواء الظنين فأحب إلي أن تغض بصرها منه، هكذا ذكر محمد – رحمه الله تعالى – في الأصل، فقد ذكر الاستحسان فيما إذا كان الناظر إلى الرجل الأجنبي هو المرأة وفيما إذا كان الناظر إلى المرأة الأجنبية هو الرجل قال: فليجتنب بجهده، وهو دليل الحرمة، وهو الصحيح في الفصلين جميعا۔
وفي الدر المختار (1/ 406: ط: سعید کراتشی)
(وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة لأنه أغلظ۔
وفي رد المحتار: (2/ 236)
(قوله: ويسجى قبرها) أي بثوب ونحوه استحبابا حال إدخالها القبر حتى يسوى اللبن على اللحد، كذا في شرح المنية والإمداد. ونقل الخير الرملي أن الزيلعي صرح في كتاب الخنثى أنه على سبيل الوجوب۔
وفي البحر الرائق (2/ 209)
(قوله ويسجى قبرها لا قبره) لأن مبنى حالهن على الستر۔