ایک شخص عیسائیت سے مسلمان ہوا اور اس کے ساتھ اس کی تین بیٹیاں بھی مسلمان ہو ئیں البتہ مسلمان ہونے سے پہلے اس کا اپنی بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا جس کی وجہ سے بیوی اپنےبڑے بیٹے کے ساتھ خاوند کو چھو ڑ کر کسی ایسی جگہ میں رہنے لگی تھی جس کا شوہر کو با لکل علم نہیں تھا ، اب شوہر کے اسلام لانے کے ایک سال بعد وہ عورت اور اس کا بیٹا دونوں مسلما ن ہو گئے ہیں اور صورت حال یہ ہےکہ وہ عورت شوہر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی۔سوال یہ ہے کہ ذکر کر دہ تفصیل کے مطا بق ان دو نوں کا نکاح با قی ہے یا نہیں ؟
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088ھ)(3/ 189) سعيد
(ولو أسلم الزوج وهي مجوسية فتهودت أو تنصرت بقي نكاحها كما لو كانت في الابتداء كذلك) لأنها كتابية مآلا۔
الدر المختار(3/ 192)سعيد
(ولو) (أسلم زوج الكتابية) ولو مآلا كما مر (فهي له..۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252ھ) (3/ 192) سعيد
(قوله كما مر) أي في قوله كما لو كانت في الابتداء كذلك، وأشار إلى أن الذي صرح به فيما مر يمكن انفهامه من هنا بأن يراد بالكتابية الكتابية حالا أو مآلا.(قوله فهي لھ) لأنه يجوز له التزوج بها ابتداء، فالبقاء أولى لأنه أسهل نهر۔