حضرت مفتی صاحب ہمارے علاقے میں عورت کے لیے سونا چاندی کے زیور بنائے جاتے ہیں اور نکاح کے وقت مہر بھی مقرر کیا جاتا ہے ،نکاح کے بعد جب عورت مہر کا مطالبہ کرتی ہے تو شوہرکہتا ہے زیورات میں نے آپ کے لیے بطور مہر مقرر کر دیے تو مہر مسمی کو چھوڑ کر زیورات کویا کسی اور چیز کو مہر مقرر کرنا کیسا ہے؟ جبکہ عرف میں بصورت طلاق یہ زیورات عورتوں سے واپس لیے جاتے ہیں ، نیز عورت کا مہر کو معاف کرنا اور کم کرنا کیسا ہے ۔
اگر خاوند نے بیوی کو زیور کا مالک بنایا تھا تو خاوند بیوی سے زیور واپس نہیں لے سکتا ، البتہ اگر بیوی نے خاوند کو زیور دیتے وقت مالک بنانے کی وضاحت نہیں کی تھی تو عرف کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا ،اگر عرف میں بیوی کو زیور کا مالک بنایا جاتا ہے تو بیوی مالک ہے ،زیور واپس نہیں لے سکتے اور اگر عرف میں بیوی کو زیور کا مالک نہیں بنا یا جاتاتو خاوند مالک ہوگا ، اگر خاوند مہر مسمی کی جگہ زیور (سونا ،چاندی ) کو مہر مقرر کرے اور بیوی اس پر راضی ہو تو جائز ہے ،بیوی خاوند کو مہر کم اور معاف کر سکتی ہے۔
الفتاوى الهندية (1/ 303) دار الفكر
(ثم الأصل) في التسمية أنها إن صحت وتقررت يجب المسمى
الفتاوى الهندية (1/ 316) دار الفكر
للمرأة أن تهب مالها لزوجها من صداق دخل بها زوجها أو لم يدخل وليس لأحد من أوليائها أب ولا غيره الاعتراض عليها
بدائع الصنائع(2/ 282) دار الكتب العلمية
ليس للزوج أن يحبس العين ويدفع غيرها من غير رضا المرأة