بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مکمل جائیداد وقف کرنا کیسا ہے؟

سوال

میرے خاوند فوت ہو چکے ہیں اور میری اولاد نہیں ہے،میں نے اپنی ساری زندگی اکیلے گزاری ہے میرےبہن بھائیوں نے میرا کبھی خیال نہیں رکھا،اب چونکہ میری عمر 70سال سے زیادہ ہو گئی ہے تو اب میں چاہتی ہو کہ میں اپنی جائیداد ایک دینی ادارے کو وقف کر دوں،کیا ایسا کرنا صحیح ہے، کیونکہ مجھے میری ایک جاننے والی نے کہا ہےکہ میں ساری جائیداد وقف نہیں کر سکتی ، یہ جائز نہیں ہے۔

جواب

جائیداد وقف کرنا

آپ کے لیےسنت کے مطابق بہترطریقہ یہ ہے کہ مکمل مال وقف یا وصیت نہ کریں بلکہ تہائی مال (۳/۱)سے کم وقف کریں ، اور باقی مال اپنی بقیہ زندگی اور اپنے بعدورثاء کے لیے چھوڑ دیں۔اگر کوئی مورث اپنے ورثاء کو وراثت سے محروم کرنے کی غرض سےمکمل مال وقف کردے تو یہ سراسرناجائز اور گناہ ہے۔ احادیث میں ايساکرنے کی ممانعت منقول ہے۔ لہذا ایسا کرنے سے پرہیز کرنا چاہئیے، اورایک تہائی سے زیادہ مال وقف یا وصیت کرنےکی صورت میں ورثاء سے مشورہ کرلینا چاہئیے تاکہ ان کو اپنی حق تلفی کی بدگمانی نہ رہے۔نیز اگر ایک تہائی وقف شدہ مال کی خود کو ضرورت یا حاجت پڑ سکتی ہو تو یہ شرط بھی لگائی جاسکتی ہے کہ میں اپنے انتقال تک اس سے فائدہ اٹھاؤں گی اس کے بعد وقف کے متولی اپنے قبضہ میں لے سکتے ہیں۔
 صحيح البخاري (4/ 3) دار طوق النجاة
عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه، قال: جاء النبي صلى الله عليه وسلم يعودني وأنا بمكة، وهو يكره أن يموت بالأرض التي هاجر منها، قال: «يرحم الله ابن عفراء»، قلت: يا رسول الله، أوصي بمالي كله؟ قال: «لا»، قلت: فالشطر، قال: «لا»، قلت: الثلث، قال: «فالثلث، والثلث كثير، إنك أن تدع ورثتك أغنياء خير من أن تدعهم عالة يتكففون الناس في أيديهم، وإنك مهما أنفقت من نفقة، فإنها صدقة، حتى اللقمة التي ترفعها إلى في امرأتك، وعسى الله أن يرفعك، فينتفع بك ناس ويضر بك آخرون»، ولم يكن له يومئذ إلا ابنة
شرح صحيح البخارى لابن بطال (8/ 144) الرشد
وأجمع العلماء على القول به واختلفوا فى القدر الذى يستحب أن يوصى به الميت، وسيأتى بعد هذا، إلا أن الأفضل لمن له ورثة أن يقصر فى وصيته عن الثلث غنيا كان أو فقيرًا؛ لأن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) لما قال لسعد: (الثلث كثير) أتبع ذلك بقوله: (إنك إن تذر ورثتك أغنياء خير من أن تدعهم عالة يتكففون الناس) ولم يكن لسعد إلا ابنة واحدة كما ذكر فى هذا الحديث، فدل هذا أن ترك المال للورثة خير من الصدقة به وأن النفقة على الأهل من الأعمال الصالحة
صحيح البخاري (4/ 8) دار طوق النجاة
أن عبد الله بن كعب، قال: سمعت كعب بن مالك رضي الله عنه، قلت: يا رسول الله، إن من توبتي أن أنخلع من مالي صدقة إلى الله، وإلى رسوله صلى الله عليه وسلم؟ قال: «أمسك عليك بعض مالك، فهو خير لك»، قلت: فإني أمسك سهمي الذي بخيبر
فتح الباري (5/ 386) دار المعرفة
 قوله (أمسك عليك بعض مالك )فإنه ظاهر في أمره بإخراج بعض ماله وإمساك بعض ماله من غير تفصيل بين أن يكون مقسوما أو مشاعا فيحتاج من منع وقف المشاع إلى دليل المنع والله أعلم واستدل به على كراهة التصدق بجميع المال
مشكاة المصابيح (2/ 926) المكتب الإسلامي
وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» رواه ابن ماجه
رد المحتار (6/ 652) دار الفكر
 وحاصله: أنه لا تنبغي الوصية بتمام الثلث بل المستحب التنقيص عنه مطلقا لأنه – عليه الصلاة والسلام – قد استكثر الثلث بقوله «والثلث كثير» لكن التنقيص عند فقر الورثة وإن كان مستحبا إلا أن ثمة ما هو أولى منه، وهو الترك أصلا
أحکام الأوقاف(ص:۲۶۴)الفقہ الحنفی
فان وقف أرضا له في مرضه على ولده ولد ولده ونسله أبدا ما تناسلوا ومن بعدهم على المساكين ثم برأ و صح ثم توفى بعد ذلك قال هذا قد صار وقفا في الصحة لما برأ من مرضه ذلك

مأخذہ: جواھرالفقہ(۴/۴۱۳)دارالعلوم کراچی،خیرالفتاوی(۶/۳۱۹)امدادیہ

فتاوی رحیمیہ  (۹/۴۸)دارالاشاعت، فتاوی محمو دیہ(۱۴/۲۳۲)جامعہ فاروقیہ کراچی

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس