میں نےاپنےبھائیوں اوربہنوں کےمشورےسےوالدصاحب کامکان دس لاکھ روپےمیں خریداجس کی میرےنام رجسٹری بھی ہوگئی۔ اس کی قیمت میں ان کی زندگی میں ادانہیں کرسکا۔ والدصاحب نےپہلےوصیت لکھ دی تھی کہ یہ رقم ورثاء کوان کےحصوں کےمطابق دےدینالیکن بعدمیں انہوں نےیہ رقم مجھےمعاف کردی تھی جبکہ میرےبھائیوں کامؤقف یہ ہےکہ والدصاحب نےاگرچہ دس لاکھ میں یہ مکان دےدیاتھالیکن آپ نےان کواس کی رقم ادانہیں کی۔ نیزرجسٹری بھی بنک سےقرض لینےکےلئےآپ کےنام کی تھی آپ کومالک بنانامقصود نہیں تھااس لئےاس مکان میں سب ورثاءکاحصہ ہے۔نیزیہ حضرات اس بات کوبھی تسلیم نہیں کرتےکہ والدصاحب نےمکان کی رقم مجھےمعاف کردی تھی، اس صورت میں شریعت مطہرہ کامیرےلئےکیاحکم ہے؟
ہماری والدہ محترمہ کےانتقال کےوقت ان کےچھ بیٹے، پانچ بیٹیاں اورایک بھائی زندہ تھےایک بیٹی ان کی زندگی میں انتقال کرگئی تھی۔ ان میں ان کی وراثت کیسےتقسیم ہوگی؟
نمبر1- صورتِ مسئولہ میں جب والدصاحب نےمکان آپ کوفروخت کردیاتھا تومحض قیمت ادانہ کرنےکی وجہ سےیہ بیع ختم نہیں ہوگی بلکہ یہ مکان شرعاً آپ کی ملک ہے دیگرورثاء کااس میں حصہ نہیں ہے۔قیمت کی معافی کےبارےمیں آپ سےزبانی استفسارپرجوکیفیت سامنےآئی اس صورت حال میں بہتریہ ہےکہ فریقین باہمی رضامندی سےصلح کی کوئی صورت اختیارکرلیں اورمذکورہ صورت میں اگر آپ مکان کی بقیہ قیمت ورثاء کواداکردیں تویہ عمل آپ کےلئےباعث اجر اوراللہ تعالی کی رضاکاسبب ہوگا۔
نمبر2- تقسیم میراث سےپہلےکےتین حقوق(تجہیزوتکفین، واجب الاداء قرض اورغیروارث کےلئے اگر وصیت کی ہوتوایک تہائی کی حدتک اس) کی ادائیگی کےبعدمرحومہ کےکل مال کے17برابرحصے کرکے ہربیٹےکو2، اورہربیٹی کوایک حصہ دیاجائے،بیٹےاوربیٹیوں کی موجودگی میں بھائی کومرحومہ کے ترکےمیں حصہ نہیں ملےگا۔
تحفة الفقهاء،محمد بن أحمدالسمرقندي(م: نحو 540ھ)(2/ 37)دارالكتب العلمية
وَأما حكم البيع: فَهُوَ ثُبُوت الْملك فِي الْمَبِيع للْمُشْتَرِي وَثُبُوت الْملك فِي الثّمن للْبَائِع إِذا كَانَ البيع باتا من غير خِيَار۔
السراجى،محمد بن عبد الرشید السجاوندی(ص: 5)المكتبة البشرى
قال علماؤنا:تتعلق بترکة المیت حقوق اربعة مرتبة:الاول:یبدأبتکفینه وتجهيزه من غير تبذير ولاتقتير،ثم تُقضي ديونه من جميع مابقي من ماله،ثم تُنَفّذ وصایاه من ثلث ما بقي بعد الدين،ثم يُقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة واجماع الامة۔