بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

موٹر سائیکل اسکیم کا حکم

سوال

ہمارے ہاں مخصوص شرائط کے ساتھ موٹرسائکل اسکیم کا کاروبار کیا جاتا ہے ،اور وہ شرائط یہ ہیں۔
۔1۔کل۔۔۔۔۔۔قرعہ اندازیاں ہو ں گی ۔
۔2۔طے شدہ ماہانہ کمیٹی ۔۔۔۔۔۔ہوگی ۔جو ہر ماہ کی 5تا ریخ سے پہلے پہلے پہنچانا ممبر کی ذمہ داری ہو گی۔
۔3۔ہر ماہ کی دس تاریخ کو قرعہ اندازی ہو گی قرعہ اندازی والے دن ممبر کاپہنچنا اپنی ذمہ داری ہوگی بعد میں اعتراض قا بل قبول نہیں ہو گا ۔
۔4۔جس خوش نصیب کی بذریعہ قر عہ اندازی گا ڑی نکلے گی اس کو کیر ی ڈبہ سوزوکی بولا ن انوائس کے ساتھ دی جا ئے گی
۔5۔ممبر کو اپنے شناختی کارڈ کی ایک فوٹو کا پی فراہم کرنا ہو گی ۔
۔6۔جس مہینے ممبر کمیٹی نہیں دے گا اس ممبر کو لکی ڈرا میں شامل نہیں کیا جائے گا اور اگلے ماہ لکی ڈرامیں شامل ہونے کے لیے اس ممبر کو دو کمیٹیاں دینی ہو ں گی۔
۔7۔دوکمیٹیوں کی عدم ادائیگی پر مذ کورہ ممبر کی لکی ڈرا میں ممبر شپ ختم کردی جائے گی ۔ ۔8۔ ممبر شپ جاری نہ رکھنے کی صورت میں ممبر اپنی جمع شدہ رقم کمیٹی کے اختتام پر %50کٹو تی کرنے کے بعد الشیخ بارگین سے وصولی کر سکے گا ۔ ۔9۔ممبر شپ ٹرانسفرایبل ہے مگر الشیخ بار گین کی رضا مندی شامل ہو گی ۔ ۔10۔قرعہ اندازی کا سسٹم نیو ٹرل ہو گا جس میں کمیٹی ممبران کی رائے کو مد نظر رکھا جائے گا ۔ ۔11۔کمیٹی کے اختتام پر باقی تمام ممبر ز کو ہنڈا 150۔ CGموٹرسائکل دی جا ئے گی ۔ جبکہ رجسٹریشن کے مبلغ۔ 4000روپے فی کس دیے جا ئیں گے۔ ۔12۔کسی بھی تنازعے کی صورت میں الشیخ بار گین کا فیصلہ حتمی ہو گا اور کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا سکے گا۔ ۔13۔ممبر تمام شرائط کا پا بند رہے گااور شرائط کی پا بندی نہ کرنے کی صورت میں مذکورہ ممبر کی ممبر شپ کینسل کر دی جا ئے گی ۔ ۔14۔کمیٹی کے اختتام پر تمام ممبران کی جمع شدہ رقم کے عوض موٹر سائیکل ہی دی جائے گا نقد رقم کی واپسی کا مطالبہ کسی بھی صورت قابل قبول نہ ہو گا ۔ ۔15۔یہ ممبر شپ فارم ڈپلیکیٹ کا پی میں ہے ایک کاپی کسٹمر کے لیےاور دوسرے الشیخ بارگین کے لیے ہے ۔ ۔16۔GSTلاگو ہونے کی صورت میں گاڑی کی مذکو رہ قیمت میں جو بھی اضا فہ ہو گا وہ ممبر پر لاگو ہوگا ۔ ۔17۔جس خوش نصیب ممبر کا کیری ڈبہ سوزوکی بولان لکی ڈرا میں نکلے گا اسے چابی کے 50ہزار روپے دینے ہو نگے۔

جواب

ذکرکردہ طریقہ کار کے مطابق اسکیم بنانااور اس میں شرکت کرنا ناجائزہے کیونکہ اس میں جو رقم جمع کروائی جاتی ہےاگر اس کوقرض قرار دیاجائے توجن شرکاء کا قرعہ اندازی میں پہلے نام نکل آتاہے انہیں اس قرض کی وجہ سے مہنگی گاڑی یاموٹرسائیکل تھوڑی سی رقم پر مل جاتی ہےجوقرض پر نفع حاصل کرناہےاور سود ہےاور اگر اس اسکیم میں جمع کروائی جانے والی رقم کو مبیع کاثمن قراردیاجائے تو اس میں یہ خرابی ہے کہ پہلے سے مبیع(موٹرسائیکل) اور اس کی قیمت متعین نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ معاملہ فاسد ہوجاتاہے ،اسی طرح مذکورہ خرابیوں کے علاوہ اس معاملہ میں ایک ناجائز شرط یہ بھی عائدکی گئی ہے کہ ممبرشپ جاری نہ رکھنے کی صورت میں ممبر کی جمع کردہ رقم میں سے پچاس فی صد کی کٹوتی کی جائے گی اور صرف پچاس فی صد رقم واپس ملے گی حالانکہ قرض کی پوری رقم واپس کرناشرعاً لازم ہے اور اس میں کٹوتی جائز نہیں، لہٰذا بہر حال ایسی اسکیم بنانے اور اس میں شرکت کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔البتہ اگر کمیٹی کی مذکورہ اسکیم کے بجائے قسط وار خریدوفروخت کی صورت اختیار کرکے اس میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھاجائےتو اس کی گنجائش ہوگی
۔(۱)مبیع یعنی موٹر سائیکل کو متعین کر لیا جائے اور سودا ہو جانے کے بعد وہ خریدار کے سپرد کر دی جائے،سودے کے کچھ مدت بعد موٹر سائیکل سپرد کرنے کی شرط لگانا ناجائز ہے۔
۔(۲)موٹر سائیکل کی ایک قیمت طے کر کے فریقین اسی مجلس عقدمیں اس پر متفق ہو جائیں۔
۔(۳)ادائیگی کی مدت،اوقات اور قسطوں کی مقدار بھی متعین کردی جائے۔
۔(۴)قیمت متعین ہو جانے کے بعد ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے قیمت میں اضافہ یا جرمانہ کے نام پر زائد رقم وصول کرنے کی شرط نہ لگائی جائے۔
ان شرائط کی پابندی کے ساتھ یہ معاملہ جائز ہوگا ،اگر ان میں سے کسی ایک کی بھی خلاف ورزی کی گئی تو معاملہ ناجائز ہو جائے گا۔
الفتاوى الهندية،نظام الدين البلخي(3/3)دارالفكر
ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح كبيع شاة من هذا القطيع وبيع شيء بقيمته وبحكم فلا…..ومنها الخلو عن الشرط الفاسد وهو أنواع منها شرط في وجوده غرر….وشرط الأجل في المبيع العين والثمن العين ويجوز في المبيع الدين والثمن الدين۔
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري (م: 970ھ)(5 / 281)دار الكتاب الإسلامي
وأما شرائط الصحة فعامة وخاصة…ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فالمجهول جهالة مفضية إليها غير صحيح كشاة من هذا القطيع وبيع الشيء بقيمته بحكم  فلان ومنها خلوه عن شرط مفسد وهو أنواع شرط في وجوده غرر…… ومنه شرط الأجل في المبيع المعين والثمن المعين وإنما يجوز في الدين۔
   بدائع الصنائع،العلامة علاء الدين الكاساني الحنفي(م: 587ھ)(5/ 156)دارالكتب العلمية
(ومنہا) أن يكون المبيع معلوما وثمنہ معلوما علما يمنع من المنازعة. فإن كان أحدہما مجہولا جہالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجہولا جہالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجہالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع، وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة لا تمنع من ذلك۔
السنن الكبرى للبيہقي زين العابدين بن يوسف (المتوفى بعد 1066 ھ)(458)(5/ 350)المعارف
عَنْ فَضَالَّةَ بْنِ عُبَيْدٍ صَاحِبِ النَّبِىِّ-صلى اللہ عليہ وسلم-أَنَّہ قَالَ: كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَہوَوَجْہ مِنْ وُجُوہ الرِّبَا۔
بحوث في قضايافقہية معاصرة مفتي محمدتقي العثماني(ص:174)دارالعلوم كراتشي
القروض يجب في الشريعة الإسلامية أن تقضى بأمثالہا۔
وفيہ أيضا (ص:14،15)دارالعلوم كراتشي
ولكن اختلاف الاثمان ہذا انمايجوز ذكرہاعند المساومة، واماعند عقد البيع فلايصح الا اذا اتفق الفريقان علي اجل معلوم وثمن معلوم، فلابدمن الجزم باحد الشقوق المذكورة في المساومة… ولايزاد ہذا الثمن بعدتمام البيع ولاينقص باختلاف احوال المشتري في الاداء فلوكان المشتري اشتري البضاعة بعشرة علي انہ سيؤدي الثمن بعد شہر، ولكنہ لم يتمكن من الاداء الابعد شہرين، فان الثمن يبقي عشرة كماہو۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

6

/

39

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس