بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

موجودہ زمانہ میں جن صحابی کو دیکھنے سے تابعیت کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک حدیث ہے “اقتلوا الاسودین ولو کنتم فی الصلوٰۃ” اس حدیث کے تحت ایک واقعہ ذکر ہے وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نے سانپ مارا اور جنات اسے اپنے قاضی کے پاس لے گئے اور قاضی سے کہا کہ اس نے ہمارا بچہ قتل کیا ہے اور آدمی نے انکار کیا کہ میں نے ان کے بچے کو نہیں سانپ کو قتل کیا ہے ،آدمی نے مذکورہ حدیث بھی پڑھی ،یہ حدیث سن کر جنات کے قاضی نے کہا جس وقت یہ حدیث نبی کریم ﷺ ارشاد فرما رہے تھے تو میں بھی مجلس میں موجود تھا ،اب سوال یہ ہے کہ یہ جنات کا قاضی صحابیت کے درجے پر فائز ہو ا کہ نہیں ،اگر ہو ا ہے تو یہ دیکھنے والا آدمی تابعی بنا کہ نہیں؟

جواب

صحابی کی تعریف یہ ہے کہ جس نے بحالت ایمان آپ ﷺ کو ایک لحظہ (سیکنڈ) بھی دیکھا ہو یا آپ ﷺ کی صحبت پائی ہو اور پھر ایمان پر اس کی وفات ہوئی ہو۔چونکہ آپﷺ رسول الثقلین تھے تو جس طرح کسی انسان نے آپ کی صحبت پائی ہو تو وہ صحابی بن گیااسی طرح کسی جن نے آپ کی صحبت پائی تو وہ بھی اسی درجہ پر فائز ہوگا، اور صحابی جن کو دیکھنے سے دیکھنے والے کو بھی تابعیت کا شرف حاصل ہوگا البتہ اگر کوئی اس زمانے میں کسی جن صحابی کو دیکھ کر تابعیت کا دعوی کرے تو یہ بات اس وجہ سے محل نظر ہے کہ آپ ﷺ کی وفات کے سو سال بعد تمام صحابہ وفات پا گئے تھے، آپ علیہ السلام کی مندرجہ ذیل حدیث کی روشنی میں اس بات کا ذکر ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے زندگی کے آخری ایام میں ایک دن عشاء کی نماز پڑھائی جب سلام پھیرا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا : کہ تم اپنی اس رات کو دیکھ لو آج سے سو سال بعد جو افراد آج زمین پر موجود ہیں وہ آج سے سو سال بعد نہیں ہوں گے۔
جو حضرات اس حدیث کی رو سے جنات کو وفات پانے والوں میں شامل مانتے ہیں ان کے نزدیک اب اگر کوئی جن صحابیت کا دعوی کرے تو وہ اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں معتبر نہیں ہے،لیکن جو حضرات جنات کو اس حدیث میں شامل نہیں کرتے یعنی ان کے نزدیک حضور علیہ السلام کی وفات کے سو سال بعد بھی جنات صحابہ کا وجود ہوسکتا ہے ،تب بھی ایسے کسی جن کو دیکھنے سے تا بعیت کا شرف حاصل نہیں ہوگا کیونکہ یہ شرف قرنِ صحابہ کے ساتھ متصف ہے اور اس (قرنِ صحابہ) کا اختتام “ایک سو بیس ہجری ” میں ہونا یقینی ہے ،لہذا آپ ﷺ کے زمانے سے لے کر “ایک سو بیس ہجری “کے درمیان کسی نے صحابی انسان یا جن کی صحبت پائی تو وہ تابعی کہلائے گا، البتہ اس زمانے کے بعد کسی ایسے جن سے ملاقات باعثِ برکت ہے ۔
:صحيح البخاري (كتاب العلم،باب السمر في العلم )
 أن عبد الله بن عمر، قال: صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم العشاء في آخر حياته، فلما سلم قام، فقال: «أرأيتكم ليلتكم هذه، فإن رأس مائة سنة منها، لا يبقى ممن هو على ظهر الأرض أحد» صحيح البخاري (کتاب  اصحاب النبیﷺ،باب فضائل اصحاب النبیﷺ)  عن أبي جمرة، سمعت زهدم بن مضرب، سمعت عمران بن حصين رضي الله عنهما، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” خير أمتي قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم۔
:فتح الباري لابن حجر (7/ 5) دار المعرفة
 والمراد بقرن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث الصحابة وقد سبق في صفة النبي صلى الله عليه وسلم قوله وبعثت في خير قرون بني آدم وفي رواية بريدة عند أحمد خير هذه الأمة القرن الذين بعثت فيهم وقد ظهر أن الذي بين البعثة وآخر من مات من الصحابة مائة سنة وعشرون سنة أو دونها أو فوقها بقليل على الاختلاف في وفاة أبي الطفيل وإن اعتبر ذلك من بعد وفاته صلى الله عليه وسلم فيكون مائة سنة أو تسعين أو سبعا وتسعين وأما قرن التابعين فإن اعتبر من سنة مائة كان نحو سبعين أو ثمانين وأما الذين بعدهم فإن اعتبر منها كان نحوا من خمسين فظهر بذلك أن مدة القرن تختلف باختلاف أعمار أهل كل زمان والله أعلم واتفقوا أن آخر من كان من أتباع التابعين ممن يقبل قوله من عاش إلى حدود العشرين ومائتين وفي هذا الوقت ظهرت البدع ظهورا فاشيا وأطلقت المعتزلة ألسنتها ورفعت الفلاسفة رءوسها وامتحن أهل العلم ليقولوا بخلق القرآن وتغيرت الأحوال تغيرا شديدا ولم يزل الأمر في نقص إلى الآن وظهر قوله صلى الله عليه وسلم ثم يفشو الكذب ظهورا بينا حتى يشمل الأقوال والأفعال والمعتقدات والله المستعان۔
:فتح الباري لابن حجر (7/ 5)
 وضبط أهل الحديث آخر من مات من الصحابة وهو على الإطلاق أبو الطفيل عامر بن واثلة الليثي كما جزم به مسلم في صحيحه وكان موته سنة مائة وقيل سنة سبع ومائة وقيل سنة عشر ومائة وهو مطابق لقوله صلى الله عليه وسلم قبل وفاته بشهر على رأس مائة سنة لا يبقى على وجه الأرض ممن هو عليها اليوم۔
:فتح الباري لابن حجر (7/ 5)
وحدث هنا عن تابعي مثله قوله خير أمتي قرني أي أهل قرني والقرن أهل زمان واحد متقارب اشتركوا في أمر من الأمور المقصودة ويقال إن ذلك مخصوص بما إذا اجتمعوا في زمن نبي أو رئيس يجمعهم على ملة أو مذهب أو عمل ويطلق القرن على مدة من الزمان واختلفوا في تحديدها من عشرة أعوام إلى مائة وعشرين۔
:فتح الباري لابن حجر (11/ 363)
 وأن المراد ساعة المخاطبين وهو نظير قوله أرأيتكم ليلتكم هذه فإن على رأس مائة سنة منها لا يبقى على وجه الأرض ممن هو عليها الآن أحد وقد تقدم بيانه في كتاب العلم وأن المراد انقراض ذلك القرن وأن من كان في زمن النبي صلى الله عليه وسلم إذا مضت مائة سنة من وقت تلك المقالة لا يبقى منهم أحد ووقع الأمر كذلك فإن آخر من بقي ممن رأى النبي صلى الله عليه وسلم أبو الطفيل عامر بن واثلة كما جزم به مسلم وغيره وكانت وفاته سنة عشر ومائة من الهجرة وذلك عند رأس مائة سنة من وقت تلك المقالة وقيل كانت وفاته قبل ذلك فإن كان كذلك فيحتمل أن يكون تأخر بعده بعض من أدرك ذلك الزمان وإن لم يثبت أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم وبه احتج جماعة من المحققين على كذب من ادعى الصحبة أو الرؤية ممن تأخر عن ذلك الوقت۔
:فيض الباري (1/ 303) دار الكتب العلمية
 ومن ههنا قال المحدثون: إن دعوى الصحبة بعد تلك المدة باطلة كما ادعى بابا رتن في بهتندا ورد عليه الذهبي فأخطأ في اسمه فكتبه «بطرند». وتصحيح اسم لسان من عالم لسان آخر أمر عسير. وآخرهم وفاة في مكة إنما هو عامر أبو طفيل، وفي المدينة جابر رضي الله عنه، وأنهما ماتا في تلك المئة كما أخبر به النبي صلى الله عليه وسلم۔
:تدريب الراوي (2/ 667) دار طيبة
فالأولى أن يقال: من لقي النبي صلى الله عليه وسلم مسلما ومات على إسلامه۔
:تدريب الراوي (2/ 669)
قال: وقد استشكل ابن الأثير مؤمني الجن في الصحابة دون من رآه من الملائكة، وهم أولى بالذكر من هؤلاء. قال: وليس كما زعم، لأن الجن من جملة المكلفين الذين شملتهم الرسالة والبعثة؛ فكان ذكر من عرف اسمه ممن رآه حسنا؛ بخلاف الملائكة۔
:تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي (2/ 667)
ثم تعرف صحبته بالتواتر والاستفاضة، أو قول صحابي أو قوله إذا كان عدلا۔
:تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي (2/ 673)
 (أو قوله) هو: أنا صحابي (إذا كان عدلا) إذا أمكن ذلك؛ فإن ادعاه بعد مائة سنة من وفاته صلى الله عليه وسلم فإنه لا يقبل وإن ثبتت عدالته قبل ذلك. لقوله صلى الله عليه وسلم في الحديث: «أرأيتكم ليلتكم هذه، فإنه على رأس مائة سنة لم يبق أحد على ظهر الأرض» . يريد انخرام ذلك القرن، قال ذلك سنة وفاته صلى الله عليه وسلم. وشرط الأصوليون في قبوله أن تعرف معاصرته له، وفي أصل المسألة احتمال أنه لا يصدق؛ لكونه متهما بدعوى رتبة يثبتها لنفسه، وبهذا جزم الآمدي، ورجحه أبو الحسن بن القطان. فائدةقال الذهبي في ” الميزان “: رتن الهندي، وما أدراك ما رتن، شيخ دجال بلا ريب، ظهر بعد الستمائة، فادعى الصحبة والصحابة لا يكذبون، وهذا جريء على الله ورسوله، وقد ألفت في أمره جزءا (ذکرمسند الجن فی النوادر من احادیث  سید الاوائل والاواخرﷺ۔۔ص:179)۔
:فتاویٰ محمودیہ(20/46)جامعہ فاروقیۃ
بعض اکابر سے کسی حدیث کا کسی جن سے نقل کرنا بعض کتب میں مذکور ہے ،مگر وہ بطورِ اعجوبہ  اور غریبہ اور نادرہ ہے ،جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ ؒرسالہ “النوادر ” میں نقل فرمایا ہے اسی وجہ سے حضرت شاہ صاحب نے اس رسالہ کا نام ہی النوادر رکھا ہے۔
:نوادر الحدیث مع اللآ لی المنثورہ(ص:183)حبیبیہ رشیدیہ
ان احادیث کی وجہ سے حضرات محدثین فرماتے ہیں کہ جوشخص وفاتِ نبوی  کے  سو سال بعد صحبت کا دعوی کرے وہ کاذب ہے ۔
:نوادر الحدیث مع اللآ لی المنثورہ(ص:184)
لیکن قرنِ صحابہ گزر جانے کے بعد کسی جن صحابی کے  دیکھنے سے بر تقدیرِ صحت میری ناقص رائے میں تابعیت کا شرف حاصل نہیں ہوگا اس لیے کہ یہ فضیلت قرن کے ساتھ خاص ہے ۔۔۔ہاں (ایسے کسی جن سے ) ملاقات موجب بر کت ہوگی۔
:نوادر الحدیث مع اللآ لی المنثورہ(ص:189)
اب  اگر کوئی جن مدتِ مذکور کے گزر جانے کے بعد صحبت ِ نبوی کا دعویٰ کرے تو وہ بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا ،انسانوں کی طرح جنات بھی اس قاعدہ میں داخل ہیں اس لیے حافظ ابن حجرؒ  وغیرہ شراح ِ حدیث نے “مَن”کے عمو م سے حضرت عیسیٰ و خضر علیھما السلام  اور ابلیس لعین کا استثناء ذکر کیا ہے اور جنات کا عمومی استثناء ذکر نہیں کیا ہے۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس