منگنی جو کہ شریعت کی نگا ہ میں ایک معاہدہ کی حیثیت رکھتی ہے اس موقع پررواج میں دولہن کو انگشتری وغیرہ پہنائی جاتی ہے اسی طرح دو لہا کو بھی کچھ نہ کچھ دیا جاتا ہےبعدہ اس خوشی میں کہ اللہ نے فرض منصبی کی ادائیگی کی جنبانی کروائی اپنے قرابت داروں کو مٹھائی وغیرہ کھلاتے ہیں/ دیتے ہیں/ انکے گھر بھیجتے ہیں تو آیا اس مٹھائی کو کھلانا اور کھانا شرعاً کیسا ہے؟جبکہ بعض لوگ نہ کھاتے ہیں نہ کھلاتےہیں، بلکہ لفظ منگنی کے استعمال کو بھی ناپسند کرتے ہیں حالانکہ منگنی کا عمل دنیا میں حضور ﷺ سے بھی ثابت ہے اور آخرت میں اہل جنت کاحوروں کے ساتھ بھی ہو گا جیسا کہ فضائل رمضان کے ذیل میں حدیث پاک میں آتا ہے کہ” رمضان کی پہلی رات جب ہوتی ہے تو جنت کی حور یں بالا خانوں میں کھڑے ہوکر آواز لگاتی ہیں کہ ہے کوئی اللہ کیلئے ہم سے منگنی کرنے والا” پس ذیل میں رہنمائی فرما کر ممنون فرمائیں ۔
اسی طرح لڑکی (دو لہن) کی تیل مہندی کے موقع پر جو اعزہ اقارب ( دولہن کی صواحبات وغیره) کو جمع کیا جاتا ہے کھانے وغیرہ کا بھی انتظام ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ ایسی تقریب میں شرکت اور کھا نا کھانا (خواہ شادی والےگھر میں ہو یا اپنے گھر آجائے تو اس کا کھانا )شرعاً کیسا ہے؟
بعض حضرات کہتے ہیں کہ رخصتی کا کھانا شریعت میں ثابت نہیں البتہ ولیمہ مسنون ہے اسکی دعوت کرنا/ شرکت کرکےکھانا صحيح ہے؟
جبکہ اجابت دعوت حق المسلم ہے اور متعدد احادیث میں اس کی تاکید آئی ہے ۔ اور کسی مسلمان کی دعوت بلا عذر شرعی و بلا مانع شرکت صرف اس بات پر کہ رخصتی کا کھانا ثابت نہیں ہے انکار کرنا /شرکت نہ کرنا اور دعوت نامہ کو قبول نہ کرنا کیسا ہے؟
نمبر ۱۔ منگنی (خطبہ) کے سلسلے میں دو باتیں الگ الگ ہیں
منگنی کا ثبوت اور اس کی مشروعیت۔
اس موقع پر تحائف کے لین دین کا اہتمام کرنا، خوشی کے اظہار میں مٹھائی تقسیم کرناوغیرہ۔
جہاں تک منگنی کے ثبوت اور اس کی مشروعیت کا معاملہ ہے تو ظاہر ہے کہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی منگنی کے لفظ کو معیوب کہا جا سکتا ہے کیونکہ انسانی معاشروں میں یہی طریقہ چلا آرہا ہے کہ نکاح سے قبل عموماً نکاح کا پیغام دیا جاتا ہے اور یہ عمل حضور ﷺ سے بھی ثابت ہے اور جنت کے تذکروں میں بھی احادیث مبارکہ میں اس کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ آپ نے سوال میں بیان فرمایا لیکن یہاں قابل توجہ امر یہ ہے کہ شریعت مطہرہ میں اس خطبہ کا حاصل اور اس کی حقیقت صرف یہ ہے کہ مرد یا اس کے اقارب ، عورت یا اس کے اقارب کو نکاح کا پیغام دیں۔ باہمی تحائف کے لین دین کا اہتمام کرنا، مٹھائی تقسیم کرنا یہ کوئی ضروری نہیں بلکہ سنت سمجھ کر ایسا کرنا بدعت اور واجب الترک ہےملاحظہ فرمائیں (فتاوی عثمانی (۲/۲۳۲)،ط:معارف القرآن) ۔
البتہ اگر ضروری سمجھے بغیر خوشی کے اظہار کے طور پر ریا و نمود سے بچتے ہوئے اور رسم ورواج سے مجبور ہوئے بغیر اپنی دلی خوشی سے مٹھائی تقسیم کر لی جائے یا محبت بڑھانے کے لئے کوئی تحفہ یاہد یہ دے دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور ایسی مٹھائی کو کھانا اور ایسے تحفہ کو استعمال کرنا بھی درست ہے لیکن تجربہ یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی بہت سے لوگ ان شرائط کا لحاظ نہیں رکھ پاتے اس لئے ایسے امور سے احتراز بہتر ہے ۔
نمبر ۲۔ آج کل عموماً مہندی کو ایک لازمی رسم کی حیثیت دے دی گئی ہے اور اس میں بہت سی خرافات اور غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے مثلا بے پردگی ،غیر محارم سے اختلاط(میل جول) فضول خرچی و نمود وغیرہ اس لیے ایسی محافل کا انعقاد اور ان میں شرکت ناجائز اور سخت گناہ ہے جس سے احتراز لازم ہے البتہ اگر مذکورہ خرابیوں سے بچتے ہوئے صرف گھر کی خواتین یا قریبی رشتہ دار خواتین یا دولہن کی سہیلیاں گھر میں جمع ہو کردولہن کو مہندی لگائیں اور اس موقع پر ضروری سمجھے بغیر محض ضیافت کے طور پر ان کے لیے کھانے کا اہتمام کردے تو یہ عمل فی نفسہ مباح ہے۔
نمبر ۳ ۔ رخصتی کے موقع پر لڑکی والوں کی جانب سے کھانا کھلانا ثابت نہیں البتہ لڑکے والوں کی جانب سے ولیمہ مسنونہ ثابت ہے۔ لہذارخصتی کے موقع پر مہمانوں کو لڑکی والوں کی طرف سے کھانا کھلانا، اگر ولیمہ کی طرح سنت سمجھ کر ہو تو یہ نا جائز اور بدعت ہے جس سے اجتناب کرنالازم ہے اور اگر سنت سمجھ کر نہ کیا جائے لیکن اس میں تمام برادری کو دعوت دینا اور تمام احباب کو مد عو کرنا لازم سمجھا جائے اور نہ کرنے کو معیوب سمجھا جائے اور استطاعت نہ ہونے کے باوجود قرضہ لےکر دعوت کرنا ضروری سمجھا جائے اور نہ کر نےکی صورت میں لعن و طعن کیا جائے تو ایسی صورت میں یہ دعوت ممنوع اور قابل ترک ہوگی اور اگر مذکورہ بالا دونوں صورتیں نہ ہوں بلکہ صرف ضیافت مقصود ہو تو یہ دعوت مباح ہے اور اگر اس موقع پر باہر سے مہمان بھی آئے ہوئے ہیں تو ان کیلئے کھانا تیار کرنا اور ان کی مہمانی کرنافی نفسہ جائز بلکہ شرعاً پسندیدہ ہے۔
ملحوظہ : اسلام مسلمانوں کو سادگی اختیار کرنے اور غیر ضروری رسومات سے اجتناب کرنے کی تعلیم دیتا ہے کیونکہ بہت سے امور جو فی نفسہ مباح بلکہ بعض اوقات مستحسن ہوتے ہیں لیکن ان کو رسومات کی شکل دینے کی وجہ سےمعاشرت میں تنگی پیدا ہو جاتی ہے اور وسائل کے نہ ہوتے ہوئے اور نہ چاہتے ہوئے بھی مجبورا ان رسومات کو پوراکرنا پڑتا ہے اس لئے ایسی رسومات کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔