بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

منقولی اشیاء کو ملکیت میں آنے سے پہلےبیچنا

سوال

ایک شخص امریکہ کی مارکیٹ سے آن لائن چیزیں خرید کر ادھر ہی آن لائن بیچتا ہے۔ جس میں اس کا اپنا بھی کافی خرچہ ہوجاتا ہے اور آمدنی کم ہوتی ہے۔ اور چیزیں نہیں بھی بکتی کئی دفع۔ اگر وہ شخص پہلے لوگوں سے چیزوں کی بکنگ کروالے اور جس کو جو چیز چاہیے ہو ڈائریکٹ وہاں بھجوادے ۔ اس میں سے جو بچت ہو اس کے لیے جائز ہوگی؟

جواب

منقولی اشیاء کو ملکیت ، قبضے ، رسک میں آنے سے پہلے فروخت کرنا جائز نہیں اور مذکورہ صورت میں بکنگ کروا کر آگے فروخت کرنے والے کے رسک میں مبیع( فروخت ہونے والی چیز ) کسی مرحلے میں نہیں آتی اس لیے یہ صورت جائز نہیں البتہ اس کی جائز صورت یہ ہے کہ فروخت کنندہ جن کمپنیوں وغیرہ سے اشیاء خریدتا ہے ان کا کمیشن ایجنٹ بن کر معاملہ کرے یا خریداروں سے وعدہ بیع ( مذکورہ چیز آپکو فروخت کروں گا) کر کے اشیاء کو اپنے قبضے، رسک میں لاکر فروخت کرے۔
سنن الترمذي (1/231) عشرہ مبشرہ
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ: يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي مِنَ البَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدِي، أَبْتَاعُ لَهُ ‌مِنَ ‌السُّوقِ، ثُمَّ أَبِيعُهُ؟ قَالَ: «لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ» ۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(4/341)علمیۃ
(ومنها) أن يكون مقدور التسليم عند العقد، فإن كان ‌معجوز التسليم عنده لا ينعقد، وإن كان مملوكا له كبيع الآبق في جواب ظاهر الروايات۔
الفتاوى الهندية (3/3)بیروت
فيما يبيعه لنفسه فلا ينعقد بيع الكلإ ولو في أرض مملوكة له ولا بيع ما ليس مملوكا له وإن ملكه بعده إلا السلم، ‌والمغضوب لو باعه الغاضب ثم ضمنه نفذ بيعه هكذا في البحر الرائق وأن يكون مالا متقوما شرعا مقدور التسليم في الحال أو في تالي الحال كذا في فتح القدير ومنها سماع المتعاقدين كلامهما وهو شرط انعقاد البيع بالإجماع فإذا قال المشتري اشتريت ولم يسمع البائع كلام المشتري لم ينعقد البيع هكذا في الفتاوى الصغرى فإن سمع أهل المجلس كلام المشتري والبائع يقول لم أسمع ولا وقر في أذني لم يصدق قضاء كذا في البحر الرائق ومنها في المكان وهو اتحاد المجلس بأن كان الإيجاب والقبول في مجلس واحد فإن اختلف لا ينعقد وأما شرائط النفاذ فنوعان أحدهما الملك أو الولاية۔
فقہ البیوع (1/379)معارف القرآن
الشرط السابع المتعلق بالمبیع: ان یکون البائع قد قبض المبیع قبض حقیقاً او حکمیاً، وھذا من شرائط الصحۃ، فبیع مالم یقبضہ بعدفاسد شرعاً ولو کان مملوکاً ، والاصل فیہ قول رسول اللہ ﷺ ( من ابتاع طعاماً، فلا بیعہ حتی یستوفیہ)۔۔۔ قال ابو حنیفۃ و ابو یوسف رحمہماللّٰہ تعالیٰ : تمتنع البیع قبل القبض فی سائر المنقولات ویجوز فی العقار الذی لا یخشی ھلاکہ، کما فی فتح القدیر۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس