بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مناسخہ کی ایک صورت

سوال

بندہ کے نانا حسین محمد ولد فقیر یا کا کل رقبہ 102 کنال 19 مرلہ ہے۔ حسین محمد کی کل 3 بیٹیاں ہیں جبکہ کوئی بیٹا نہیں ۔ حسین محمد کے دوبھائی( شیر محمد اور نذیر) اور ایک بہن (رفیقا) ہے۔ نذیر کی اولاد میں ایک بیٹا تاج محمد ہے جو اب بھی حیات ہے۔ جبکہ نذیر انڈیا میں ہی وفات پاچکا تھا۔
حسین محمد کی وفات تقریباً 30 سال قبل سن 1992 ہوچکی ہے۔ جب حسین محمد کی وفات ہوئی تو اس وقت بندہ حسین محمد کی بیوی (غفوری بیگم) ، اس کی 3 بیٹیاں ( طولاں، شکیلہ، سلامت) ، ایک بھائی( شیر محمد) ، ایک بہن رفیقاً اور ایک بھتیجا تاج محمد حیات تھا۔ حسین محمد کا بھائی شیر محمد بھی 1995 میں وفات پاچکا ہے۔ شیر محمد کی بیوی شیر محمد کی زندگی میں ہی وفات پاچکی تھی، اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اس کا کوئی حقیقی وارث نہیں، مگر اسکے حصے کی جائیداد بھی 102 کنال 19 مرلہ ہے۔ اس طرح ٹوٹل جائیداد جو دونوں بھائیوں ( شیر محمد اور حسین محمد) کی ملا کر 205 کنال 18 مرلہ تقریباً بنتی ہے۔ اس ٹوٹل جائداد کو درج ذیل میں شریعت محمدیہ اور پاکستان کے آئین کےمطابق تقسیم کر کے ہماری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

مذکورہ صورت میں مرحوم حسین محمد کے کل ترکہ میں سے حقوق مقدمہ علی المیراث (تجہیز وتکفین ،قرض اور وصیت) کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال کے 72 حصے کرکے مرحوم کی زوجہ غفوری بیگم کو دے دیں ۔اور مرحوم کی ہر بیٹی کو 16 حصے دیے جائیں اور دس حصے مرحوم کے بھائی شیر محمد کو جبکہ 5 حصے مرحوم کی بہن کو دے دیں ۔مرحوم حسین محمد کے ترکہ میں سے مرحوم کے بھتیجے کو کچھ نہیں ملے گا ۔ تقسیم میراث کا نقشہ حسب ذیل ہے۔

مسئلہ24            3     تص 72                                       مضروب3

بھتیجا اخت عینیہ اخ عینی بنات زوجہ
محروم   عصبہ ثلثان ثمن
    5 16 3
    15/3 48/3 9/3
  5 10 فی بیٹی 16  

(ب) مرحوم شیر محمد کو مرحوم حسین محمد کی جائیداد میں سے جو حصہ ملا وہ اور اس کے علاوہ انتقال کے وقت جو کچھ مرحوم شیر محمد کی ملکیت میں تھا سب اس کا ترکہ ہے ۔ اس میں سے حقوق مقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد بقیہ  مال کے دوحصے کرکے ایک حصہ مرحوم کی بہن رفیقا کو اور ایک حصہ مرحوم کے بھتیجے تاج محمد کو دے دیں ۔ مرحوم شیر محمد کے ترکہ میں سے مرحوم کے بھتیجوں اور بھابھی کو کچھ نہیں ملے گا۔ تقسیم ترکہ کا نقشہ حسب ذیل ہے۔

مسئلہ2

بھیجیاں3 بھتیجا اخت عینیہ
محروم عصبہ نصف
  1 1

مذکورہ دونوں تقسیموں کے نتیجے میں اس وقت موجود ورثاء میں ترکہ حسب ِذیل طریقہ کے مطابق تقسیم ہوگا۔

زوجہ کا حصہ (غفوری بیگم ) :           12 کنال 37۔ 17 مرلہ

فی بیٹی کا حصہ :                             22 کنال 55۔17 مرلہ

بہن کا (رفیقا) حصہ :                      65 کنال 465۔15 مرلہ

بھتیجا (تاج محمد )کا حصہ:                 58 کنال 485۔12 مرلہ

ملحوظہ: واضح رہے کہ اگر زمین کا  تمام رقبہ ایک جیسا ہی  ہواور قیمت کا کوئی فرق نہ ہو تو رقبے کے لحاظ سے تقسیم مناسب ہے لیکن قیمت کا فرق ہوتو اس فرق کوملحوظ رکھتے ہو قیمت کےاعتبار سے تقسیم کرنا ضروری ہوگا ۔تاکہ کسی وارث کی حق تلفی نہ ہونے  پائے۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس