مسئلہ24 3 تص 72 مضروب3
| بھتیجا | اخت عینیہ | اخ عینی | بنات | زوجہ |
| محروم | عصبہ | ثلثان | ثمن | |
| 5 | 16 | 3 | ||
| 15/3 | 48/3 | 9/3 | ||
| 5 | 10 | فی بیٹی 16 |
(ب) مرحوم شیر محمد کو مرحوم حسین محمد کی جائیداد میں سے جو حصہ ملا وہ اور اس کے علاوہ انتقال کے وقت جو کچھ مرحوم شیر محمد کی ملکیت میں تھا سب اس کا ترکہ ہے ۔ اس میں سے حقوق مقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال کے دوحصے کرکے ایک حصہ مرحوم کی بہن رفیقا کو اور ایک حصہ مرحوم کے بھتیجے تاج محمد کو دے دیں ۔ مرحوم شیر محمد کے ترکہ میں سے مرحوم کے بھتیجوں اور بھابھی کو کچھ نہیں ملے گا۔ تقسیم ترکہ کا نقشہ حسب ذیل ہے۔
مسئلہ2
| بھیجیاں3 | بھتیجا | اخت عینیہ |
| محروم | عصبہ | نصف |
| 1 | 1 |
مذکورہ دونوں تقسیموں کے نتیجے میں اس وقت موجود ورثاء میں ترکہ حسب ِذیل طریقہ کے مطابق تقسیم ہوگا۔
زوجہ کا حصہ (غفوری بیگم ) : 12 کنال 37۔ 17 مرلہ
فی بیٹی کا حصہ : 22 کنال 55۔17 مرلہ
بہن کا (رفیقا) حصہ : 65 کنال 465۔15 مرلہ
بھتیجا (تاج محمد )کا حصہ: 58 کنال 485۔12 مرلہ
ملحوظہ: واضح رہے کہ اگر زمین کا تمام رقبہ ایک جیسا ہی ہواور قیمت کا کوئی فرق نہ ہو تو رقبے کے لحاظ سے تقسیم مناسب ہے لیکن قیمت کا فرق ہوتو اس فرق کوملحوظ رکھتے ہو قیمت کےاعتبار سے تقسیم کرنا ضروری ہوگا ۔تاکہ کسی وارث کی حق تلفی نہ ہونے پائے۔