بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مناسخہ(دوبطن)

سوال

فضل الہی فوت ہوگئےان کاایک مکان ہےجس کی قیمت(5344000)ہے،فضل الہی کے کل گیارہ بچےہیں پانچ بیٹےاورچھ بیٹیاں ، والدین اوربیوی فضل الہی سےپہلےفوت ہوگئے۔ ایک بیٹا رشید اس کے انتقال کے بعدفوت ہو گیا،باقی سب بیٹےاوربیٹیاں حیات تھے۔ رشيدکاصرف ایک بیٹافاروق ہےاوراس کی بیوہ ہے،فضل الہی کی وراثت میں رشيدکےبیٹےاوراس کی بیوہ کاکتناحصہ بنتاہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم فضل الہی صاحب نےبوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں مذکورہ مکان سمیت جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداد،سونا،چاندی،نقدی اورہرقسم کاچھوٹابڑاگھریلوسازوسامان چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کاترکہ ہےاس میں سےسب سےپہلےمرحوم کےکفن دفن کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں، اگروہ اخراجات کسی نےاپنی طرف سےبطورِاحسان اداکردئیےہوں تواب وہ ترکہ سےنہیں نکالے جائیں گے،اس کےبعددیکھیں اگرمرحوم نےکوئی جائزوصیت کی ہوتوبقیہ ترکہ میں سےایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کیاجائے، اس کےبعدجومال بچےاس کےکل سولہ (16)برابرحصےکرکےہربیٹےکودو(2)اورہربیٹی کوایک (1)حصہ دیاجائے، مرحوم رشيدکومرحوم فضل الہی کےترکہ میں سےجومال ملےوہ اوروفات کےوقت جومال ان کی اپنی ملکیت میں موجودتھاوہ سب مرحوم رشيدکاترکہ ہے،جس میں سےسب سےپہلےمذکورہ تین حقوق یعنی کفن دفن، قرضہ اوروصیت ذکرکردہ تفصیل کےمطابق اداکئےجائیں گے۔ پھربقیہ مال کےکل آٹھ(8)حصےکرکےان کی بیوہ کوایک (1)حصہ جبکہ بیٹے فاروق کوبقیہ سات (7)حصےدئیےجائیں گے۔ مزیدتفصیل مطلوب ہوتواس وقت تک جتنےورثاءکاانتقال ہوچکاہے،ان کی تاریخ اورسنِ وفات کےساتھ دوبارہ سوال کریں ۔

تقسیمِ میراث کانقشہ حسبِ ذیل ہے

(1)   مسئلہ16                                                       (مرحوم فضل الہی صاحب)

بیٹیاں 4 بیٹے بیٹا (رشید)
6 8 2
فی کس بیٹی :1 حصہ فی کس بیٹا: 2 حصہ

(2)    مسئلہ 8                              (مرحوم رشيدصاحب)

بیوہ بیوہ
7 1

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

3

/

52

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس