بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ملازمین کی خلاف ورزی کرنے پرکمپنی مالک کا ان کے کپڑے ضبط کرلینا

سوال

ہماری کمپنی میں یہ بات طے ہے کہ ورکرزسردیوں/گرمیوں کے اپنے فالتوکپڑے اتار کر اس کی طے شدہ مقررہ جگہ پر رکھیں اور مخصوص جگہ پر کام کریں ۔ایک دن کمپنی کے ایک مالک نے کمپنی کے وزٹ کے دوران تین ورکرزکے کپڑے مقررہ جگہ سے ہٹ کرکا م کی جگہ پر پڑے ہوئے دیکھے تو اس جگہ (اوون )کے انچارج کوکہاکہ یہ کپڑے سٹورمیں دے آؤاور سٹور والوں سے یہ کہہ دو کہ یہ کپڑے مالک نے رکھوائے ہیں میری اجازت کے بغیر کسی کو نہیں دینے ہیں ۔
اوون انچارج نے وہ کپڑے سٹور میں دئیےاور ایساہی پیغام بھی دے دیا جیساکہ مالک نے کہا۔اگلے دن جناب مالک نے سٹور والوں کوبلایا کہ میرے پاس آؤتاکہ کپڑوں کامعاملہ حل کیاجائے وہاں تمام مالکان موجود تھے ۔ جب سٹور والالڑکا آیا تو اس نے کہا کہ جناب کپڑے تو کل شام کو وہ لڑکےلے کر چلے گئے جس پر مالک کافی ناراض ہوئے اور اوون انچارج کوبلایاکہ تم کپڑے بغیر اجازت کیوں لے کر گئے ؟ تو اس نے کہا کہ جناب مجھے سٹوروالے نے کہاکہ تم اپنے کپڑے آکر لے جاؤجس کے بعد میں نے لڑکوں کوکہا کہ اپنے کپڑے جاکر سٹور سے لےلو۔ہم سمجھے کہ سٹور والوں کو آپ نے اجازت دےدی ہے اس لئے سٹور والے ہمیں کہہ رہے ہیں کہ کپڑے آکر لےجاؤ ۔اس کے بعد مالک نے سٹور والے سے پوچھا کہ تم نے انچارج کو کیوں کہا کہ کپڑے لے جاؤ جس کے جواب میں سٹور والے نے کہا کہ جناب میں نے ان کو بالکل نہیں کہا کہ سٹور سے کپڑے لے جاؤ ،یہ لوگ میرے چھٹی کرنے کے بعد دوسرے سٹور والے لڑکے سے کپڑے لے کر گئے ہیں ۔
دونوں فریقین سے کافی پوچھا گیا لیکن اوون انچارج نے کہا کہ جناب مجھے سٹور کے اس دوسرےلڑکےنے کہا تو میں نے لڑکوں کو کپڑے لینے کیلئے بھیجا ورنہ میں کیسے جرات کرسکتاہوں کپڑے اٹھانے کی جبکہ میں خود اپنے ہاتھوں سے کپڑے سٹور میں دےکر آیاہو ں ۔اسی طرح سٹور والے نے کہا کہ جناب مجھے پتہ ہے کہ جب مالک نے حکم دیاہے بغیر اجازت نہیں دینے تو میں اپنی طرف سے کیسے کہہ سکتاہوں کہ کپڑے لے جاؤ ۔جن لڑکوں کے کپڑے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارے انچارج نے کہا تو ہم نے سٹور میں جاکر کپڑے لےلئے ۔دونوں فریقین اپنی اپنی جگہ بضد ہیں جس کے بعد مالک نے کہا کہ اس معاملے کی انکوائری کریں اور قصوروار شخص کی نشاندہی کرکے اس کونوکری سے فارغ کر دیں ۔اس کے بعد انکوئری کی گئی جس میں سٹور کے دونوں لڑکے، اوون انچاج اوران تین لڑکوں جن کے کپڑے تھے ان سے زبانی اور تحریری بیانات لئے گئے ہیں اس مسئلہ میں راہ نمائی فر مائیں
نمبر1:۔کیامالک کے لئے ملازمین کے کپڑے ضبط کرنا درست تھا ؟
نمبر2:۔کیاتینوں لڑکے جنہوں نے سپر وائزر کے کہنے پر اپنے کپڑے واپس لئے تو یہ الزام سے بری ہیں؟
نمبر 3:۔کیااپنےغصب شدہ مال/سامان کو حیلے سے لے لینا/دھوکہ/چوری سےلےلینادرست ہے؟

جواب

نمبر(1،2،3)۔مذکورہ صورت میں ملازمین کو کپڑوں کی ضرورت پیش آنے پر کپڑوں کو ضبط کیے رکھنا جائز نہیں۔اور ملازمین کو اپنے کپڑے لینے کا حق تھا ۔البتہ مالک کو ملازمین کی بے ضابطگی پر مناسب اور جائز تادیبی کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970هـ)(8/271)دارالكتاب الإسلامي
  قال في المنتقى الأصل أن المرتهن أو المستأجر متى أمسك العين للحفظ لا يضمن ومتى أمسكها للاستعمال يضمن فالحد الفاصل بينهما هو أنه متى أمسك الشيء في موضع لا يمسك فيه إلا للاستعمال والانتفاع في ذلك الموضع فهو استعمال وإذا أمسكه في موضع لا يمسكه فيه للاستعمال فهو
  الفتاوى الهندية،لجنة العلماء برئاسة نظام الدين البلخي(5/119)دارالفكر
تفسيره شرعا فهو أخذ مال متقوم محترم بغير إذن المالك على وجه يزيل يد المالك إن كان في يده أو يقصر يده إن لم يكن في يده كذا في المحيط. ومن حال بينه وبين ملكه لم يضمن؛ لأنه ليس بغصب ومن منع مالكه من حفظ ماله حتى هلك لم يضمن كذا في الينابيع
  الفتاوى الهندية،لجنة العلماء برئاسة نظام الدين البلخي(5/134)دارالفكر
 (الباب السادس في استرداد المغصوب من الغاصب وفيما يبرأ الغاصب به عن الضمان وما لا يبرأ) قال الكرخي إذا أحدث المغصوب منه في الغصب حدثا يصير به غاصبا لو وقع في ملك الغير صار مستردا للغصب ويبرأ الغاصب به عن الضمان وذلك نحو أن يستخدم المغصوب؛ لأن الغصب إثبات اليد على المحل فإذا أحدث حدثا يصير به غاصبا فقد أثبت يده على المملوك وثبوت يد المالك يوجب سقوط الضمان عن الغاصب سواء عرف ذلك أو لم يعرف؛ لأن الحكم يبتنى على السبب دون العلم ولا يكون الغاصب غاصبا بالغصب الأول بهذا إلا أن يحدث غصبا مستقبلا وكذلك لو أن الغاصب كسا الثوب رب الثوب فلبسه حتى تخرق عرفه أو لم يعرفه، وكذا إذا باعه صاحبه أو وهبه له ولا يعرفه حتى لبسه وتخرق وكذلك إذا غصب طعاما ثم أطعمه عرفه أو لم يعرفه وكذلك إذا جاء المغصوب منه إلى بيت الغاصب وأكل ذلك الطعام بعينه وقد عرفه أو لم يعرفه برئ من الضمان
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970هـ) (5/ 44) دارالكتاب الإسلامي
وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال، وأما التعزير بالشتم فلم أره إلا في المجتبى قال وفي شرح أبي اليسر التعزير بالشتم مشروع ولكن بعد أن لا يكون قاذفا اهـ. وصرح السرخسي بأنه ليس في التعزير شيء مقدر بل هو مفوض إلى رأي القاضي لأن المقصود منه الزجر وأحوال الناس مختلفة فيه وفي الشافي التعزير على مراتب أشراف الأشراف وهم العلماء والعلوية بالإعلام وهو أن يقول له القاضي: إنك تفعل كذا وكذا فينزجر به وتعزير الأشراف وهم الأمراء والدهاقين بالإعلام والجر إلى باب القاضي والخصومة وتعزير الأوساط وهم السوقة بالجر والحبس وتعزير الأخسة بهذا كله وبالضرب. اهـ
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس