بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مقروض کے مال سے اپنا قرض وصول کرنا

سوال

میرے ایک دوست نے مجھ سے قرضہ لیا تھا ۔ پھر ایک دن اس نے کہا کہ وہ ا یران جارہا ہے کیونکہ وہاں اس کی کچھ زمینیں ہیں۔ ان کو بیچ کر وہ قرضہ اتارسکے گا۔ جس دن اس کی روانگی تھی، مجھےجیل سے فون آیا کہ اس کا کچھ قرضہ اس کے ہمسائے کے ذمہ بھی تھا، اور اس کے ہمسائے نے اسکو جاتے دیکھ کر پولیس کو فون کردیا۔ اسکو جیل سے چھڑانے کے لیے اس کے ہمسائے کا قرضہ بھی مجھے دینا پڑا۔ یہ بات تقریباً فروری 2010 کی ہے۔
رہا ہونے کے بعد اس نے اپنے گھر کا سامان میرے گھر میں رکھنے کی اجازت مانگی مگر میں نے انکار کردیاکیونکہ اسکی واپسی کا کوئی ٹھوس ارادہ نظر نہیں آتا تھا۔ گھر بھر کا سامان امانت کے طور پر رکھنا ، جب کہ کوئی خبر نہیں کہ کتنے سال گزر جائیں ، میں اس کے لیے تیار نہ تھا۔ آخر اس نے کسی اور دوست کے پاس اپنا سامان رکھوایا جن کے پاس ایک خالی گھر تھا۔ لیکن اس نے اصرار کیا کہ اس کے قالین قیمتی ہیں اور وہ ان کو کسی خالی گھر میں نہیں چھوڑنا چاہتا۔
میں نے واضح طور پر کہہ دیا کہ میں اس کو امانت کے طور پر نہیں رکھنے کو تیار، وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ دوچار ماہ میں واپس آجائے گا، اس لیئے میں نے کہا کہ اگر تم چار ماہ میں واپس آگئے تو یہ سامان واپس لے لینا۔ اگر نہیں آئے تومیں اس مال کو بیچ کر اپنا قرضہ پورا کرلوں گا۔ اگر کچھ پیسے بچ گئے تو اس کے لیے امانت رکھ لوں گا۔ اس شرط پر وہ راضی ہوگیا۔ جب چار ماہ پورے ہوگئے تو اس کا ایران سے فون آیا کہ قالین نہ بیچو۔ میں تم کو رقم بھیج رہاں ہوں، اپنے بینک اکاونٹ کا نمبر دو، جب میں بینک سے دریافت کیا تو پتا چلا کہ ایران سے پیسے بذریعہ بینک بھیجنا ناممکن ہے۔ ہنڈی کے ذریعے ہوسکتا ہے۔ اگلی بار جب اس کا فون آیا(دو ماہ بعد) تو میں نے اس کو یہ خبر دی تو انہوں نے کہا کہ وہ کسی طرح پہنچادیں گے۔ اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔
میری اس مال کے بارے میں کیا ذمہ داری ہے؟جس دن روانگی تھی، وہ ایک کمپیوٹر اور ایک موٹر سائیکل بھی میرے گھر چھوڑ گئے ، اس بار انہوں نے اجازت بھی نہیں مانگی، چھوڑنے کے بعد فون پر خبر کی۔ میں نے پھر وضاحت کے ساتھ اس مال کو امانت کے طور پر رکھنے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا چلہ پہ نکلا ہوا ہے۔ وہ واپسی پر ان چیزوں کو لے لے گا۔ ان سے آخری رابطہ اندازً جولائی یا اگست 2010 میں فون پر ہوا تھا۔ اس وقت ایک آدمی نے موٹر سائیکل خریدنے کی پیشکش بھی کی تھی۔ جب میں نے ان کو یہ بتایا تو ان کا وہی جواب تھا کہ کچھ نہ بیچو میں پیسے پہنچا دوں گا۔

جواب

صورت مسؤلہ میں اگر مقروض قرض کی ادائیگی پر قدرت رکھنے کے باوجود قرض کی ادائیگی میں تاخیر کر رہا ہے تو آپ اس کے لیے اس کے سامان کو بیچ کر قرض وصول کرنا جائز ہے۔ اور اگر سامان قرض سے زائد ہے تو وہ آپ کے پاس امانت ہے اور واپس کرنا ضروری ہے۔
فتح الباري(5/109) دار المعرفة – بيروت
واستدل به على مسألة الظفر وبها قال الشافعي فجزم بجواز الأخذ فيما إذا لم يمكن تحصيل الحق بالقاضي كأن يكون غريمه منكرا ولا بينة له عند وجود الجنس فيجوز عنده أخذه إن ظفر به وأخذ غيره بقدره إن لم يجده ويجتهد في التقويم ولا يحيف فإن أمكن تحصيل الحق بالقاضي فالأصح عند أكثر الشافعية الجواز أيضا وعند المالكية الخلاف وجوزه الحنفية في المثلي دون المتقوم لما يخشى فيه من الحيف واتفقوا على أن محل الجواز في الأموال لا في العقوبات البدنية
الدرالمختار(6/422) سعید
ليس لذي الحق أن يأخذ غير جنس حقه وجوزه الشافعي وهو الأوسع
ردالمحتار(6/422) سعید
(قوله وجوزه الشافعي)
 قدمنا في كتاب الحجر: أن عدم الجواز كان في زمانهم، أما اليوم فالفتوى على الجواز (قوله وهو الأوسع) لتعينه طريقا لاستيفاء حقه فينتقل حقه من الصورة إلى المالية كما في الغصب والإتلاف مجتبى
الموسوعة الفقهية(6/422) مكتبه علوم اسلامية
وقال الشافعية: لا يأخذ المستحق فوق حقه إن أمكنه الاقتصارعلی قدر حقه لحصول المقصود به فإن أخذه ضمن الزائد لتعديه بأخذه۔ وإن لم يمكنه بأن لم يظفر إلا بما تزيد قيمته علی حقه أخذه ولا يضمن الزيادة،  ثم إن تعذر بيع قدر حقه ورد ما زاد عليه علی غريمه،  وان لم يتعذر منه بقدر حقه ورد ما زاد۔
تكمله فتح الملهم(2/345) دارالعلوم كراتشي
ولكن أفتى المتأخرون من الحنفية بقول الشافعية . يقول ابن عابدين في كتاب الحجر من رد المحتار : و قال الحموي في شرح الكنز ، نقلا عن العلامة المقدسي ، عن جده الأشقر ، عن شرح القدوري لأخصب: إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم ، لمطاوعتهم فى الحقوق ، والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان ، لاسيما في ديارنا ، لمداومتهم العقوق. وكذلك نقل ابن عابدين في كتاب الحدود ۔۔۔ عن القهستاني في مذهب الشافعي : ( وهذا أوسع ، فيجوز الأخذ به ، وإن لم يكن مذهبنا ، فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة ، كما في الزاهدي، ثم نقل عبارة الحموي المذكورة. وإليه يظهر ميلان صاحب الدر المختار حيث قال في الحظر و الإباحة : ليس لذي الحق أن يأخذ غير جنس حقه ، وجوزه الشافعي ، وهوالأوسع ، وعاد ابن عابدين رحمه الله تحته فقال : و أما اليوم ، فالفتوى على الجواز

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

19

/

89

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس