عرض یہ ہے کہ ایک شخص حجاز مقدس میں کام کرنے گئے تھے وہاں جاکر وہ بیماری میں مبتلا ہوگئے تو وہاں پر کام کرنے گئے ہوئے لوگوں سے قرض لے کر اپنا علاج کرایا۔ صحت یاب ہونے کے فورا بعد ہی ان کو اپنے وطن میں آنا پڑا۔ جن سے قرض لیا تھا ان کو جانتے بھی نہیں ہے اور یابطہ نمبر وغیرہ بھی نہیں ہے۔ قرض چکانے کی کیا صورت ہوگی یا اور کوئی صورت ہے جس سے معاف کرایا جاسکتا ہے۔
:الفتاوى الهندية (2/308)دار الکتب العلمیۃ
ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح، كذا في مجمع البحرين ولقطة الحل والحرم سواء، كذا في خزانة المفتين، ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين۔
:الفتاوی السراجیۃ (341) المعروفیۃ
اذا التقط یعرفھا سنۃ علی ابواب المساجد عفی الاسواق والشوارع۔
:تبیین الحقائق (4/212) دار الکتب العلمیۃ
( وعرف الی ان علم ان ربھا لا یطلبھا)…. او قال عندی شی ء فمن سمعتموہ یسال شیئا۔