بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مفلوج مریض اپنی کل جائیدادکاکسی کومالک بنادے

سوال

ایک آدمی کی اولاد میں صرف ایک بیٹی ہےاوراس کی کوئی اولادنہیں ہے، البتہ اس کےدوبھائی اوردوبہنیں بھی ہے، حال ہی میں جب اس پرفالج کاحملہ ہواتواُس نےاپنی ساری جائیداداپنی بیٹی کےشوہر/داماد کےنام کردی،شایدیہ بیٹی کی رعایت کےپیش نظراُس نےکیا،اوراب بھی وہ آدمی بقید حیات ہے۔اُس آدمی کایہ فعل شریعت اسلامی میں کیاحکم رکھتاہے؟نیز اُس نےدیگرورثاءکوپس پُشت ڈالتےہوئےیہ جوفیصلہ کیاہے،کیا اسلام اُس شخص کواس کی اجازت دیتاہے،جبکہ اس کےبعدسے تقریباًتین  سال ہوگئےکہ وہ اسی  بیماری میں ہے، بیماری  میں کوئی فرق نہیں آیا۔
تنقیح:  معلوم یہ  کرناہے کہ مذکورہ شخص نےاپنےدامادکواپنی ساری جائیدادمالک وقابض بنا کردےدی ہے بایں طور کہ اپناتصرف اس سےختم کردیااوردامادکےحوالےکردی یا ایسا نہیں کیا، بلکہ صرف کاغذات  میں اس کےنام کی ہے ؟
جواب تنقیح: مذکورہ شخص نےاپنےدامادکوکل جائیدادکامالک وقابض بھی بنادیاہےاوراس مذکورہ شخص کو اس جائیدادمیں کسی تصرف کاحق بھی نہیں ہے، البتہ مکان کےبارےمیں تفصیل یہ ہے کہ اگرچہ یہ مکان ہبہ تو کردیاہےاورداماد رہ بھی اسی مکان میں رہاہے،اس کواس کاقبضہ بھی دےدیااوراب واہب کوکسی قسم کااختیار بھی نہیں ہے،لیکن واہب کی ملکیتی اشیاء بھی اس مکان میں بدستورموجود ہیں۔

جواب

شخصِ مذکورکااپنی کل جائیدادمذکورہ  تفصیل کےمطابق اپنےدامادکوہبہ کرنےاوراس  مالکانہ قبضہ دیدینےسےیہ ہبہ درست  ہوگیاہےاوراس شخص کاداماد اس جائیدادکامالک بن گیاہے۔ البتہ مکان کا ہبہ مکمل نہیں ہواکیونکہ مکان  ابھی تک ہبہ کرنےوالےکی مملوکہ اشیاءسےمشغول ہےجس سےمکان پر قبضہ مکمل نہیں ہوا ۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م:1088هـ)(6/660)سعيد
(وهبة مقعد ومفلوج وأشل ومسلول) به علة السل وهو قرح في الرئة (من كل ماله إن طالت مدته) سنة (ولم يخف موته منه وإلا) تطل وخيف موته (فمن ثلثه) لانها أمراض مزمنة لا قاتلة۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(6/661)سعيد
أقول، والظاهر أنه مقيد بغير الأمراض المزمنة التي طالت، ولم يخف منها الموت كالفالج ونحوه، وإن صيرته ذا فراش ومنعته عن الذهاب في حوائجه، فلا يخالف ما جرى عليه أصحاب المتون والشروح هنا تأمل۔
بدائع الصنائع،العلامة علاء الكاساني(م:587هـ)(8/108)دارالكتب العلمية
ومنها أن لا يكون الموهوب مشغولا بما ليس بموهوب لأن معنى القبض وهو التمكن من التصرف في المقبوض لا يتحقق مع الشغل وعلى هذا يخرج ما إذا وهب دارا   فيها متاع الواهب وسلم الدار إليه أو سلم الدار مع ما فيها من المتاع فإنه لا يجوز لأن الفراغ شرط صحة التسليم والقبض ولم يوجد۔
  المحيط البرهاني،أبو المعالي برهان الدين محمود بن أحمد(م: 616هـ)(6/ 241)دارالكتب العلمية
 الأصل في جنس هذه المسائل أن اشتغال الموهوب بملك الواهب يمنع تمام الهبة، لما ذكرنا: أن القبض شرط تمام الهبة، واشتغال الموهوب بملك الواهب يمنع تمام القبض من الموهوب له، وهذا لأن الموهوب ما دام يملك الواهب كان يد الواهب قائمة على الموهوب لقيامها على ما هو شاغل للموهوب، وقيام يد المواهب…. يمنع تمام الموهوب له، فأما اشتغال ملك الواهب بالموهوب لا يمنع تمام الهبة؛ لأن الموهوب فارغ لا مانع من تمام القبض؛ لأن اشتغال ملك الواهب للموهوب لا يوجب يد للواهب على الموهوب له فلا يمنع تمام الهبة. جئنا إلى تخريج المسألة فنقول: الموهوب وهو الدار مشغولة بملك الواهب فيمنع تمام القبض وهو المعني من البطلان المذكور. في «الكتاب» ألا ترى أنه لو فرغ الدار وسلمها إليه فارغة تمت الهبة فيها، كذلك لو وهب لرجل آخر جراباً أو جولقاً فيه طعام الواهب فالهبة غير تامة لما ذكرنا، لو وهب مافي الدار من المتاع فالهبة تامة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس