بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مفقود کی میراث

سوال

حضرت مفتی صاحب! مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی نے ہندوستان میں ایک شادی کی اور اس سے ایک بیٹی تھی،وہ شخص ہجرت کرکے پاکستان آگیا، یہاں آکر دوسری شادی کرلی، بچے ہوئے، پہلی بیوی سے جو بچی تھی وہ بھی پاکستان آگئی، اور اپنے باپ سے ایک یادوبار ملاقات ہوئی پھر اس کے بعد وہ شخص فوت ہوگیا۔اب اس کی پہلی بیٹی کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے ؟اخبارات میں اشتہارات دئیے، رشتہ داروں سے معلوم کیا،لیکن اس کاپتہ نہیں چلا، اب پوچھنا یہ ہے کہ والد کے ترکہ میں سے اس لڑکی کے حصہ میراث کاکیاحکم ہے ؟والد مرحوم کے ورثاء میں ایک بیوہ،دوبیٹے اور چار بیٹیاں (لاپتہ بیٹی کے علاوہ ) ہیں ،ہندوستان والی بیوی کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوچکاتھا۔ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔جزاکم اللہ تعالیٰ فی الدارین ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں ابھی توایساکریں کہ حقوق متقدمہ علی المیراث (تجہیزوتکفین ، واجب الاداءقرض اور جائزوصیت) کی ادائیگی کے بعدمرحوم کے ترکہ کے کل( 576)برابر حصے کرکے مرحوم کی بیوہ کو(72)،ہربیٹے کو (112)اور ہر موجود بیٹی کو (56) حصے دے دیں اور (56) حصے اس لاپتہ بیٹی کے لئے  الگ کرکے بطور امانت رکھ دیں جب  اس کاپتہ چل جائے تو اس کودے دیں لیکن اگر اس کے بارے میں کچھ بھی معلومات نہ ملیں یہاں تک کہ اس کی پیدائش سے نوے برس گزرجائیں تو اس کے لئے امانتاً رکھے گئےاس وقت موجود ورثاء میں ان کے حصوں کے بقدر تقسیم کیاجائےگا۔

تقسیم میراث کا نقشہ حسب ذیل ہے۔

مسئلہ 8: × 9  تصحیح72×  8=576     مضروب 9      ) حیات مفقود کی صورت )

بیٹے۲ بیٹیاں۵ بیوہ
عصبہ ثمن
7 1
63 9
72فی کس بیٹا  112حصے فی کس بیٹی  56 حصے

مسئلہ 8: × 8  تصحیح64×9 =    مضروب8      ) بصورت  ِوفات)

بیٹے۲ بیٹیاں۴ بیوہ
عصبہ ثمن
7 1
56 8
504 72
فی کس بیٹا 126 فی کس بیٹی 63
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(4/ 296)سعيد
(وميت في حق غيره فلا يرث من غيره)۔۔۔ (ولا يستحق ما أوصى له إذا مات الموصي بل يوقف قسطه إلى موت أقرانه في بلده على المذهب) لأنه الغلب، واختار الزيلعي تفويضه للإمام.
ردالمحتار،العلامة ابن عابدین،الشامي(م:1252هـ)(4/ 296)سعيد
(قوله: إلى موت أقرانه) هذا ليس خاصا بالوصية بل هو حكمه العام في جميع أحكامه من قسمة ميراثه وبينونة زوجته وغير ذلك (قوله: في بلده) هو الأصح بحر، وقيل المعتبر موت أقرانه من جميع البلاد فإن الأعمار قد تختلف طولا وقصرا بحسب الأقطار بحسب إجرائه سبحانه العادة، ولذا قالوا: الصقالبة أطول أعمارا من الروم، لكن في تعرف موت أقرانه من البلاد حرج عظيم، بخلافه من بلده فإنما فيه نوع حرج محتمل فتح (قوله: على المذهب) وقيل يقدر بتسعين سنة بتقديم التاء من حين ولادته واختاره في الكنز، وهو الأرفق هداية وعليه الفتوى ذخيرة۔
الفتاوى الهندية (6/ 505) بیروت
فإذا مضت المدة التي تقدم ذكرها وحكمنا بموته قسمت أمواله بين الموجودين من ورثته
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس