گزارش ہے کہ میرا رضاعی بیٹا وسیم اکرم ولد محمد اکرم جس کی عمر تقریبا 34 سال ہے جس کا میرے ساتھ بھتیجے کا رشتہ بھی ہے۔ وسیم اکرم شادی شدہ ہے اور اس کی شادی جولائی 2018ء میں اپنی خالہ کی بیٹی سے ہوئی۔ اس کا کوئی کاروبار بھی تھا اور جاب بھی کرتاتھا لیکن اس کا کاروبارہمارے علم میں نہیں تھا۔ 2022ء میں اس کو کوئی کاروباری نقصان ہوا، جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان رہتا تھا ۔ چیک کیش نہ ہونے کی وجہ سے تھانہ گلبرگ میں ایف – ائی- آر بھی درج کرائی گئی، جس کے بعد ضمانت بھی ہوگئی تھی اور وہ دوبارہ سے نوکری کررہاتھا۔ فروری/2023ء کو وسیم اکرم گھر سے اپنی ڈیوٹی پر گیا اور واپس گھر نہیں آیا ۔ اس کی کمشدگی/ اغوا کی رپورٹ تھانہ ریس کورس لاہور میں زیر نمبر 22/360 درج کرائی گئی اور پولیس اس کی تلاش کررہی ہے۔ لڑکا باوجود تلاش کے ابھی تک نہیں ملا ہے۔ اس کی بیوی ثناء وسیم اب وسیم اکرم سے علیحدگی کا مطالبہ کررہی ہے جوکہ اس کی گمشدگی کے فورا بعد اپنے والدین کے گھر شفٹ ہوگئی تھی۔ جناب سے گزارش ہے کہ ہمیں اسلامی قوانین کی روشنی میں ایک فتوی جاری کیا جائے کہ کیا اور کیسے وسیم اکرم کی بیوی اس سے علیحدگی اختیار کرسکتی ہے ؟ اور اس کے کیا حقوق ہیں نیز کیا وسیم اکرم کے والد پر نفقہ دینا لازم ہے یا نہیں؟جناب کی عین نوازش ہوگی۔
ومذکورہ کی بیوی کے لئے اصل حکم یہ ہے کہ وہ عفت وعصمت کے ساتھ زندگی گزارے لیکن اگر وہ علیحدگی اختیار کرنا چاہے تو اس کے لئے جائز ہے ۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اپنا مقدمہ عدالت میں پیش کرے اور گواہوں سے ثابت کرے کہ وسیم اکرم سے میرا نکاح ہواتھا اور گواہوں سے اس کا مفقود ولاپتہ ہونا بھی ثابت کرے، اس کے بعد عدالت اس کی تفتیش وتلاش میں پوری کوشش کرے اور جب پتہ چلنے سے مایوس ہوجائے تو عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم دے ، پھر اگر ان چار سالوں میں بھی اس کا پتہ نہ چلے تو چار سال کی اختتام پر عورت دوبارہ دعوی دائر کرے اور عدالت شوہر کو مردہ تصور کرکے فسخ نکاح کا حکم جاری کرے اور عورت چار ماہ اور دس دن عدتِ وفات گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ۔
اگر عورت گناہ میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ ظاہر کرے تو ایسی صورت میں چار سال انتظا ر کرنے کا حکم ضروری نہیں بلکہ یہ دیکھا جائےگا شوہر کے غائب کے وقت سے اب تک کم ازکم ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے یا نہیں ،اگر گزرچکا ہے تو عدالت مزید مہلت دیے بغیر اس وقت بھی نکاح ختم کر سکتی ہے اسی طرح ا گر گناہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ تو نہیں لیکن مفقود کا اتنا ما ل موجود نہیں جو ان چار سالوں میں بیوی کے نان و نفقہ کے لیے کافی ہو یا بیوی کے لیے مفقود کے مال سے نان و نفقہ حاصل کرنا مشکل ہو تو اس صورت میں اگر نان و نفقہ دیے بغیر کم از کم ایک ماہ گزرا ہو توعدالت نکاح ختم کر سکتی ہے ۔
واضح رہے کہ ان آخری دو صورتوں میں عدت وفات کی بجائے عدت طلاق گزارے گی جو عدالت کے فیصلے کے وقت سے شمار ہو گی۔ نیز وسیم اکرم کے دوران گمشدگی اس کی بیوی کا نان ونفقہ وسیم اکرم کے مال سے ادا کیا جائےگا اور اگر اس نے کوئی مال نہ چھوڑا ہو تو وسیم اکرم کے والد پر نفقہ دینا لازم نہیں۔
:قال اللہ تبارک وتعالیٰ
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ [البقرة : 228]
تفسير النسفي :(1/ 122)
{ وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ } ويجب لهن من الحق على الرجال من المهر والنفقة وحسن العشرة وترك المضارة مثل الذي يجب لهم عليهن من الأمر والنهي { بِالْمَعْرُوفِ } بالوجه الذي لا ينكر في الشرع وعادات الناس۔
الدر المختار، باب النفقۃ (3/ 572) دار الفكر
(فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته۔
البحر الرائق (5/ 178)دارالکتب الاسلامی
(قوله ولا يفرق بينه وبينها) أي وبين زوجته لقوله – عليه السلام – في امرأة المفقود «إنها امرأته حتى يأتيها البيان» وقول علي – رضي الله عنه – فيها هي امرأة ابتليت فلتصبر حتى يتبين موت أو طلاق ….۔
(قوله: وحكم بموته بعد تسعين سنة) لأنه الغاية في زماننا والحياة بعدها نادر فلا عبرة للنادر، وقد وقع الاختلاف في هذه واختلف الترجيح، فظاهر الرواية وهو المذهب أنه مقدر بموت الأقران في السن؛ لأن من النوادر أن يعيش الإنسان بعد موت أقرانه فلا ينبني الحكم عليه فإذا بقي منهم واحد لا يحكم بموته واختلفوا في المراد بموت أقرانه فقيل من جميع البلاد، وقيل من بلده وهو الأصح، ….. وفوضه بعضهم إلى القاضي فأي وقت رأى المصلحة حكم بموته، قال الشارح وهو المختار….۔
(قوله وتعتد امرأته وورث منه حينئذ لا قبله) أي حين حكم بموته بمضي هذه المدة والظرف قيد للحكمين كأنه مات من ذلك الوقت معاينة إذ الحكمي معتبر بالحقيقي۔
منح الجليل شرح مختصر خليل ، أبو عبد الله المالكي (م: 1299هـ) (4/ 318) دار الفكر
(فيؤجل) بضم التحتية وفتح الهمز والجيم، المفقود الحر (أربع سنين إن دامت نفقتها) أي زوجة المفقود من ماله ولو غير مدخول بها ولم تدعه للدخول بها قبل غيبته حيث طلبتها الآن واشتراط الدعاء له في وجوب إنفاق الزوج في الحاضر فقط ويكفي في وجوبها في مال الغائب أن لا تظهر الامتناع منه فإن لم تدم نفقتها من ماله فلها التطليق لعدم النفقة بلا تأجيل وكذا إن خشيت على نفسها الزنا فيزاد على دوام نفقتها عدم خشيتها الزنا…۔
ابتداء السنين الأربعة أو نصفها (من) يوم (العجز) ممن رفعت له الزوجة (عن) علم (خبره) أي المفقود بعد البحث عنه والمكاتبة في أمره لمن عساه أن يعرف خبره من القضاة والولاة وولاة الماء وجماعة المسلمين والراجح أن تأجيل الحر بأربع سنين تعبدي بإجماع الصحابة عليه (ثم) بعد العجز عن خبره (اعتدت) عدة (ك) عدة (الوفاة) ۔
الشرح الكبير للشيخ الدردير وحاشية الدسوقي (2/ 479)دارالفکر
(فيؤجل الحر أربع سنين إن دامت نفقتها) من ماله وإلا طلق عليه لعدم النفقة (و) يؤجل (العبد نصفها) سنتان (من) حين (العجز عن خبره) بالبحث عنه في الأماكن التي يظن ذهابه إليها من البلدان بأن يرسل الحاكم رسولا بكتاب لحاكم تلك الأماكن مشتمل على صفة الرجل وحرفته ونسبه ليفتش عنه فيها۔
الفتاوى الهندية (2/ 300) دار الفكر
لا يفرق بينه وبين امرأته وحكم بموته بمضي تسعين سنة وعليه الفتوى، وفي ظاهر الرواية يقدر بموت أقرانه فإذا لم يبق أحد من أقرانه حيا حكم بموته ويعتبر موت أقرانه في أهل بلده، كذا في الكافي، والمختار أنه يفوض إلى رأي الإمام، كذا في التبيين، وإذا حكم بموته اعتدت امرأته عدة الوفاة من ذلك الوقت ۔
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (9/ 7066) دار الفكر
ورأى المالكية والحنابلة جواز التفريق للغيبة إذا طالت، وتضررت الزوجة بها، ولو ترك لها الزوج مالاً تنفق منه أثناء الغياب؛ لأن الزوجة تتضرر من الغيبة ضرراً بالغاً، والضرر يدفع بقدر الإمكان، لقوله صلّى الله عليه وسلم: «لا ضرر ولا ضرار»…..وجعلوا حد الغيبة الطويلة سنة فأكثر على المعتمد۔
الحیلۃ الناجزۃ(ص: 63،71)دار الاشاعت،فتاوی دار العلوم کراچی(امداد السائلین)(4/184)ادارۃ المعارف، فتاوی عثمانی (2/448)معارف القرآن کراچی