حضرت مفتی صاحب! مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی نے ہندوستان میں ایک شادی کی اور اس سے ایک بیٹی تھی،وہ شخص ہجرت کرکے پاکستان آگیا، یہاں آکر دوسری شادی کرلی، بچے ہوئے، پہلی بیوی سے جو بچی تھی وہ بھی پاکستان آگئی، اور اپنے باپ سے ایک یادوبار ملاقات ہوئی پھر اس کے بعد وہ شخص فوت ہوگیا۔اب اس کی پہلی بیٹی کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے ؟اخبارات میں اشتہارات دئیے، رشتہ داروں سے معلوم کیا،لیکن اس کاپتہ نہیں چلا، اب پوچھنا یہ ہے کہ والد کے ترکہ میں سے اس لڑکی کے حصہ میراث کاکیاحکم ہے ؟والد مرحوم کے ورثاء میں ایک بیوہ،دوبیٹے اور چار بیٹیاں (لاپتہ بیٹی کے علاوہ ) ہیں ،ہندوستان والی بیوی کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوچکاتھا۔
صورتِ مسئولہ میں ابھی توایساکریں کہ حقوق متقدمہ علی المیراث (تجہیزوتکفین ، واجب الاداءقرض اور جائزوصیت) کی ادائیگی کے بعدمرحوم کے ترکہ کے کل( 576)برابر حصے کرکے مرحوم کی بیوہ کو(72)،ہربیٹے کو (112)اور ہر موجود بیٹی کو (56) حصے دے دیں اور (56) حصے اس لاپتہ بیٹی کے لئے الگ کرکے بطور امانت رکھ دیں جب اس کاپتہ چل جائے تو اس کودے دیں۔