بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

معلمین کا ادارے اور طلبہ کے ساتھ معاہدے کی شرعی حیثیت

سوال

نمبر۱۔معلمین اور مالکان کے معاہدات کی شرعی اور فقہی حیثیت اور درست طریقہ کار کیا ہونی چاہئے؟ نمبر۲۔ معلمین اور طلبہ کے معاہدات کی شرعی اور فقہی حیثیت اور درست طریقہ کار کیا ہونی چاہئے؟ ایک تحقیقی مقالہ کے لئے مذکورہ بالا معاملات کا تفصیل سے جواب مطلوب ہے ۔

جواب

نمبر۱۔واضح رہے کہ معلمین کامالکان ادارے کے ساتھ اجارہ کا معاملہ ہوتا ہے اورمعلمین طے شدہ وقت میں اجیرخاص(ملازم) کے حکم میں ہوتے ہیں لہذا اس میں اجارہ کی تمام شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔اور اس تفصیل کے لئے آپ کتاب المعاملات تجارتی معاملات کے شرعی احکام، مؤلفہ:مولانا محمد عمران اشرف عثمانی صاحب” کا مطالعہ فرماسکتے ہیں۔
نمبر۲۔ایسےمعلمین جو ادارے کے ملازم ہوتے ہیں ان کا طلبہ کے ساتھ کوئی معاوضہ والا معاملہ نہیں ہوتا بلکہ جوطلبہ ادارے کو فیس دیتے ہیں ان کا ادارے کےساتھ اجارہ کا معاملہ ہوتاہے اور ادارہ بطور مستاجر معلمین سے وہ خدمت لے رہا ہوتا ہے۔ اور جو بغیر فیس کے پڑھ رہے ہوتے ہیں ان پر ادارہ کی طرف سے تبرع ہے۔
المحيط البرهاني(7/ 395) دار الكتب العلمية
وأما بيان شرائطها فنقول يجب أن تكون الأجرة معلومة، والعمل إن وردت الإجارة على العمل، والمنفعة إن وردت الإجارة على المنفعة، وهذا لأن الأجرة معقود به والعمل أو المنفعة معقود عليه، وإعلام المعقود به وإعلام المعقود عليه شرط تحرزاً عن المنازعة كما في باب البيع، وإعلام المنفعة ببيان الوقت، وهو الأجل أو بيان المسافة. وإعلام العمل ببيان محل العمل، وإعلام الأجرة إن كانت الأجرة دراهم أو دنانير ببيان القدر، وببيان الصفة أنه جيد أو رديء وتقع على نقد البلد إن كان في البلد نقد واحد، وتقع على نقد البلد الذي وقع فيه الإجارة
الدر المختار (6 / 69)سعيد
(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل (وإن) (هلك في المدة نصف الغنم أو أكثر) من نصفه (فله الأجرة كاملة) ما دام يرعى منها شيئا، لما مر أن المعقود عليه تسليم نفسه جوهرة، وظاهر التعليل بقاء الأجرة لو هلك كلها وبه صرح في العمادية
الفتاوى الهندية (4 / 500)دار الفكر
والأجير الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس