بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مطلقہ عورت کو میراث ملے گی یا نہیں؟

سوال

وراثت میں مطلقہ عورت کو حصہ دار بنایا جا سکتا ہے کہ نہیں ؟

جواب

 مطلقہ بیوی صرف اس صورت میں میراث کی حقدار ہوتی ہے کہ جب شوہر نے اس کو اپنی مرض وفات میں طلاق دی ہو اور بیوی کی عدت کے دوران شوہر کا انتقال ہو جائے لیکن اگر شوہر نے اپنی صحت کی حالت میں طلاق دی ہو یا طلاق تو مرض وفات میں دی ہو لیکن شوہر کا انتقال عورت کی عدت گزرنے کے بعد ہو تو ایسی صورت میں بیوی میراث میں حصہ دار نہیں ہو گی۔
البحر الرائق،ابن نجیم المصری(م:970ھ)(4/ 46) دار الكتاب الإسلامي
(قوله طلقها رجعيا أو بائنا في مرض موته، ومات في عدتها ورثت وبعدها لا) لأن الزوجية سبب إرثها في مرض موته… وقيد بأن يكون في مرضه احترازا عما إذا طلق في الصحة ثم مرض، ومات، وهي في العدة لا ترث منه۔
 المحيط البرهاني،محمود بن أحمد(م:616)(3/ 462) دار الكتب العلمية
وإذا طلق امرأته في مرض الموت ثلاثاً أو طلاقاً بائناً ثم مات قبل انقضاء العدة فورثت۔
                        البناية شرح الهداية،بدر الدین العینی(م:855ھ)(5/ 439) دار الكتب العلمية
باب طلاق المريض إذا طلق الرجل امرأته في مرض موته طلاقا بائنا فمات وهي في العدة ورثته، وإن مات بعد انقضاء العدة فلا ميراث لها۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

1

/

71

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس