نمبر ۱۔کسی مدرسےکےطباخ کوکیایہ حق حاصل ہےکہ وہ اجتماعی اشیاءخوردونوش میں سےبلااجازتِ انتظامیہ وذمہ داران ِ مطبخ اپنی ذات کیلئےکچھ استعمال کرےمثلا:چائےکیلئےآنےوالےدودھ میں سےاپنےلیے دودھ رکھ لینا نمبر ۲۔یاکسی بھی مخصوص طالب علم کواجتماعی اشیاء میں سےنوازنا نمبر ۳۔یااپنےکسی مہمان کوجس کاتعلق کسی بھی اعتبارسےمدرسہ سےنہ ہواس کومنتظمہ کی اجازت کےبغیررہائش دینایاکھاناکھلانا نمبر ۴۔روٹی کےبچےہوئے ٹکڑوں کوفروخت کرنااوراس کی آمدن کواپنےذاتی استعمال میں لانا۔اگریہ کام اس کےلئےناجائز ہیں اوراس کے باوجود وہ یہ کام کرتاہے تواس کےلئے حکمِ شرعی کیا ہے ؟
طباخ یا کسی دوسرےشخص کےلئےسوال میں ذکرکردہ تمام تصرفات مدرسہ کےاموالِ مشترکہ میں منتظم کی اجازت کےبغیرناجائزاورسخت گناہ ہیں اوراس پردنیا وآخرت میں بہت شدیدپکڑکااندیشہ ہےلہٰذا اس سےبچنانہایت ضروری ہے۔مذکورہ شخص پرلازم ہےکہ روٹیاں وغیرہ فروخت کرکےجورقم حاصل کی وہ مدرسہ کوواپس کرے اورجواشیاءبلااجازت استعمال کی ہیں ان کا ضمان بھی ادا کرے۔جوعمل ہوگیااس پر خوب توبہ واستغفار زبان سےاورعمل سے صلوٰۃ التوبہ کا اہتمام کرے۔