اپنے جاننے والے دو ست کو بندہ نے 2سال قبل مبلغ ڈیڑ ھ لاکھ روپے کاروبار کے لئے دیئے اس میں یہ بات طے پائی کہ یہ کل رقم کاروبار کرنے والے دوست کے پاس امانت رہے گی ،ماہانہ جتنابھی نفع ہوگا اس کو نصف، نصف کریں گے ،چنانچہ اس نے تین چار ماہ متفرق رقم پیش کی ، بعد ازاں بندہ نے جب اس سے یہ مطالبہ کیا کہ میرے وہ پیسے جو کاروبار کے لئے آپ کو دیئے تھے وہ آپ واپس کردیں ،قبل ازیں یہ طے ہواتھا کہ جب بھی مجھے رقم در کار ہوگی ،اپنی رقم 2 ماہ قبل اطلاع دے کر واپس وصول کر لوں گا ۔لیکن باوجود اس طے کر دہ بات کے اس شخص نے بندہ کی اصل رقم (راس المال ) مبلغ ڈیڑھ لاکھ روپے واپس نہیں کئے ڈیڑھ سال سے ٹال مٹول کررہاہے ۔
نمبر1:-کیامیرا اس سے یہ معاملہ شرعاًدرست تھا ؟شریعت اسلامیہ کی روشنی میں اس کاروبار /شراکت کی شرعی حیثیت کیاہے ؟
نمبر 2:۔نیز اس کا ٹامٹول کرنے کاکیاحکم ؟
نمبر3:۔میرااس سے نفع لینا کیساتھا ؟نفع کی مد میں وصول شدہ رقم میرے لئے جائز ہے؟
ملحوظہ: اس کے ساتھ عقد مضاربت ہواتھا وہ اس طرح کہ اس رقم کو کاروبار میں لگائيں گے کام صرف ایک فریق کرے گااور نفع نصف نصف ہوگا۔اصل راس المال محفوظ رہے گایہ نہیں ڈوبے گا۔
نمبر 1:۔مذکورہ صورت میں یہ شرط لگاناکہ اصل سرمایہ محفوظ رہے گاشرعاً ناجائز اور شرطِ فاسد ہے، البتہ مذکورہ عقدِ مضاربت اس شرط کی وجہ سے فاسد نہیں ہوا، بلکہ خودیہ شرط فاسدہونے کی وجہ سے غیرمعتبرہوگی۔
نمبر2:۔عقدِ مضاربت ختم کرتے ہوئےآپ کی جانب سے اپنی رقم کامطالبہ کرنے کی صورت میں شخصِ مذکورپراس رقم کی واپسی لازم ہے ، وسعت کے باوجود شخصِ مذکورکابلاوجہ ٹال مٹول کرناشدیدگناہ ہے۔
نمبر 3:۔مذکورہ صورت میں طے شدہ تناسب کے لحاظ سے جونفع آپ کے حصہ میں آتاہے وہ لیناآپ کے لئے جائز ہے۔