بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مشتری کا لاعلمی میں مبیع سےزائدپرقبضہ کرنا

سوال

ایک مرتبہ بندہ اتواربازارگیا، وہا ں کچھ چیزیں خریدیں اوربندہ کومعلوم نہ ہواکہ سامان کےساتھ کچھ چیزیں زائدبھی آگئیں یعنی میں نےایک چھلنی خریدی تھی لیکن دوآگئیں اورعلم ہو نہ سکا گھر آکر دیکھا توعلم ہوا اوربندہ واپس کرنےبھی نہیں جاسکتاتھا، رات کاوقت ہوگیااوراگلی اتوارکوگیا تو دکاندارنہیں تھا اوربندہ بہت پریشان ہواکہ ایسی حالت میں کیاکرناچاہیے؟

جواب

سوال میں ذکرکردہ صورت ِ حال کےدرست ہونےکی صورت میں وہ زائدسامان (چھلنی) امانت کےحکم میں ہے۔ اس کاحکم شرعی یہ ہےکہ اس چیزکےمالک کوتلاش کرنےکی حتی الامکان کوشش کی جائے۔چنانچہ اگرآپ کو امیدہوکہ دوبارہ بازارجانےسےوہ دکانداروہاں مل جائےگا، یاکسی دوسرے دوکاندارسے معلومات لے کراس تک پہنچانےکی کوشش کریں۔ تاہم اگر مالک کاکسی طورپربھی علم نہ ہوسکےتوایسی صورت میں آپ وہ چیزمالک کوثواب پہنچانےکی نیت سےکسی مستحق کوصدقہ کردیں۔ اوراگرآپ مستحق ہوں توآپ اسےخودبھی استعمال کرسکتےہیں۔ یادرکھيےمذکورہ دونوں صورتوں(صدقہ کرنےیاخوداستعمال کرنے)میں بعدازاں اگراصل مالک مل جائے اوروہ آپ سےاپنی چیزکامطالبہ کرےتوآپ کےذمےاس چیزکی قیمت اداکرنالازم ہوگا۔
الدر المختار،علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ) (4/ 279)سعيد
فينتفع الرافع بها  لو فقيرا  وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه… فإن جاء مالكها بعد التصدق خير بين إجازة فعله ولو بعد هلاكها وله ثوابها أو تضمينه۔
 المبسوط لمحمدبن أحمد السرخسي(11/ 3)دارالمعرفة
فأما (النوع الثاني) وهو ما يعلم أن صاحبه يطلبه فمن يرفعه فعليه أن يحفظه ويعرفه ليوصله إلى صاحبه، وبدأ الكتاب به ورواه عن إبراهيم قال في اللقطة: يعرفها حولا، فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها، فإن جاء صاحبها فهو بالخيار إن شاء أنفذ الصدقة، وإن شاء ضمنه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس