ایک مرتبہ بندہ اتواربازارگیا، وہا ں کچھ چیزیں خریدیں اوربندہ کومعلوم نہ ہواکہ سامان کےساتھ کچھ چیزیں زائدبھی آگئیں یعنی میں نےایک چھلنی خریدی تھی لیکن دوآگئیں اورعلم ہو نہ سکا گھر آکر دیکھا توعلم ہوا اوربندہ واپس کرنےبھی نہیں جاسکتاتھا، رات کاوقت ہوگیااوراگلی اتوارکوگیا تو دکاندارنہیں تھا اوربندہ بہت پریشان ہواکہ ایسی حالت میں کیاکرناچاہیے؟
سوال میں ذکرکردہ صورت ِ حال کےدرست ہونےکی صورت میں وہ زائدسامان (چھلنی) امانت کےحکم میں ہے۔ اس کاحکم شرعی یہ ہےکہ اس چیزکےمالک کوتلاش کرنےکی حتی الامکان کوشش کی جائے۔چنانچہ اگرآپ کو امیدہوکہ دوبارہ بازارجانےسےوہ دکانداروہاں مل جائےگا، یاکسی دوسرے دوکاندارسے معلومات لے کراس تک پہنچانےکی کوشش کریں۔ تاہم اگر مالک کاکسی طورپربھی علم نہ ہوسکےتوایسی صورت میں آپ وہ چیزمالک کوثواب پہنچانےکی نیت سےکسی مستحق کوصدقہ کردیں۔ اوراگرآپ مستحق ہوں توآپ اسےخودبھی استعمال کرسکتےہیں۔ یادرکھيےمذکورہ دونوں صورتوں(صدقہ کرنےیاخوداستعمال کرنے)میں بعدازاں اگراصل مالک مل جائے اوروہ آپ سےاپنی چیزکامطالبہ کرےتوآپ کےذمےاس چیزکی قیمت اداکرنالازم ہوگا۔