بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مشترکہ مکان اور دکان کی تقسیم

سوال

میں زیدتقریباپچیس سال سےکراچی میں رہائشی ہوں،میرےدوچچاکےبیٹے(عمراوربکر)ہیں جن کی پرورش بچپن سےمیں نےکی۔
جیسےجیسےبڑےہوتےگئےدونوں کمانےلگ گئے،کمپنی میں ملازمت کرتےرہے،بیس پچیس ہزار روپے تنخواہ لاتےرہےاورمیں (زید) سرکاری ادارےمیں ملازم ہوں ،میری تنخواہ زیادہ تھی پھرکچھ عرصے بعد میرے بیٹے نے ایک چھوٹی سی دکان کھولی جس کوشروع میں میں اورمیرابیٹاچلاتےرہےاسی دوران میں نےاپنے ایک چچاکے بیٹے(عمر)کوویزہ کرادیاوہ بیرون ملک کماتارہا،دوتین سال بعدویزہ کینسل کرواکروہ(عمر)اورمیرابیٹادوکان کوسنبھال نےلگ گئےاوردوسرابھائی (بکر) کمپنی میں ملازم تھا،اسی دوران ہم نےایک گھرخریدا،ابھی کچھ عرصہ تقریباسال پہلے (عمر)کاانتقال ہوگیا،ان کےانتقال کےبعد(بکر)اورمیرےایک بیٹے نےدکان سنبھالی۔ان تمام حالات میں جس نےجتناکمایا چاہےکم ہویازیادہ ایک ساتھ کھاتےرہےسب معاملات مشترک تھے،
نمبر۱۔اب ہم تقسیم کرناچاہتےہیں توکس طرح تقسیم کریں ؟
نمبر۲۔ہماری تورائےیہ ہےکہ مکان ودوکان کودوحصوں میں تقسیم کرکےایک حصہ میرا ہوجائے گا اور دوسرا حصہ میرےچچاکےبیٹوں کےدرمیان تقسیم ہوجائےگا،کیااس طرح کرنادرست ہے؟
نمبر۳۔دوسری بات یہ کہ میرےجس چچاکےبیٹے(عمر)کاانتقال ہواہےاس کےچھوٹےنابالغ بچے ہیں بکرکہتاہےکہ اپنےبھائی کاحصہ میں اپنےپاس رکھ لوں گا،اس کےساتھ کاروبارکرتارہوں گا،بچوں کااوربیوی کاخرچہ نان ونفقہ میں برداشت کروں گاکیااس طرح کرنادرست ہے؟
نمبر۴۔اوراگر(بکر) پرفیکس رقم لازم کردی جائےکہ پانچ یاچھ ہزارروپےآپ ان یتیم بچوں کودوگےا س میں توکوئی حرج نہیں ہے؟ براہ کرم تفصیل راہ نمائی فرمائیں۔
تنقیح:نمبر۱۔کیاعمرنےاپنی زندگی میں بکرکواولادکاوصی بنایاتھا،یعنی اس کےذمےبچوں کی دیکھ بال کی ذمہ داری لگائی تھی یانہیں؟نیزبکرکےعلاوہ کسی اورکےذمےبچوں کی دیکھ بال ذمہ داری لگائی تھی یانہیں؟
نمبر۲۔عمرکی طرف سےکسی کوذمہ داربنانےکی صورت میں کیابچوں کاگارڈین مقررکرنےکےلئےآپ نےعدالت سےرجوع کیایانہیں؟اگرکیاتوفیصلہ کسکےحق میں لکھاگیا؟
جواب تنقیح:نہ ہی کسی کووصی بنایاگیاتھااورنہ ہی عدالت سےرجوع ہواہے۔

جواب

مشترکہ مکان

صورت مسئو لہ میں سوال اورجوابِ تنقیح سےیہ بات واضح ہوتی ہے کہ زید،عمراوربکرسب محنت کرکےکمائی کرتےتھے،لیکن سب کی آمدنی مخلوط تھی اورخرچ بھی سب کااکٹھاآتاتھا،اگرصورتِ حال واقعی ایسی ہی ہےاورہرایک کاحصہ لگائےہوئےسرمائےمیں سےآسانی سےمعلوم ہوسکتاہوتووہ اپنے سرمائے کے بقدر جائیدا میں شریک ہوں گے،اگرالگ الگ حصہ معلوم نہ ہوں توپوری جائیدادمیں یہ تینوں لوگ شریک ہوں گے۔ نیز مرحوم نےاگرکسی کووصی(نگران)نہیں بنایاتھاتوعدالت کی اجازت کےبغیر بچوں کامال تجارت میں لگانا جائز نہیں ہے،البتہ عدالت یامجازاتھارٹی کی اجازت سےیتیم کامال تجارت میں لگاناجائزہے۔ لہٰذاصورتِ مسؤلہ میں اگر بکر کے بارےمیں یہ یقین ہوکہ وہ دیانت کےساتھ یتیم کامال تجارت میں لگاکرمحفوظ کرسکتاہےتووہ عدالت کی منظوری سے ایساکرسکتاہے۔
الدر المختار (6/497)سعيد
(وما حصله أحدهما فله وما حصلاه معا فلهما) نصفين إن لم يعلم ما لكل
رد المحتار(6/497)سعيد
 (قوله: وما حصلاه معا إلخ) يعني ثم خلطاه وباعه، فيقسم الثمن على كيل أو وزن ما لكل منهما، وإن لم يكن وزنيا ولا كيليا قسم على قيمة ما كان لكل منهما، وإن لم يعرف مقدار ما كان لكل منهما صدق كل منهما إلى النصف؛ لأنهما استويا في الاكتساب وكأن المكتسب في أيديهما فالظاهر أنه بينهما نصفان، والظاهر يشهد له في ذلك، فيقبل قوله ولا يصدق على الزيادة على النصف إلا ببينة؛ لأنه يدعي خلاف الظاهر… يؤخذ من هذا ما أفتى  به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز
فأجاب بأنه بينهما سوية، وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي
الدر المختار (6/ 174)سعيد
(ووليه أبوه ثم وصيه) بعد موته ثم وصي وصيه كما في القهستاني عن العمادية (ثم) بعدهم (جده) الصحيح وإن علا (ثم وصيه) ثم وصي وصيه قهستاني زاد القهستاني والزيلعي ثم الوالي بالطريق الأولى (ثم القاضي أو وصيه) أيهما تصرف يصح فلذا لم يصح ثم (دون الأم أو وصيها) هذا في المال
رد المحتار(6/ 174)
 (قوله دون الأم أو وصيها) قال الزيلعي: وأما ما عدا الأصول من العصبة كالعم والأخ أو غيرهم كالأم ووصيها وصاحب الشرطة لا يصح إذنهم له؛ لأنهم ليس لهم أن يتصرفوا في ماله تجارة فكذا لا يملكون الإذن له فيها والأولون يملكون التصرف في ماله فكذا يملكون الإذن له في التجارة
الفتاوى الهندية (6/ ۱۷۷)العلمية
وللوصي أن يتجر بمال اليتيم في المبسوط ولا يجوز للوصي أن يتجر لنفسه بمال اليتيم أو الميت فإن فعل وربح يضمن رأس المال ويتصدق بالربح في قول أبي حنيفة ومحمد
تبيين الحقائق (7/ 435)العلمیۃ
قال – رحمه الله – (ولا يتجر في ماله) أي الوصي لا يتجر في مال اليتيم لأن المفوض إليهالحفظ دون التجارة
 (قوله في المتن ولا يتجر في ماله) أي لنفسه أما إذا اتجر للصغير يجوز… وفي فتاوى قاضيخان لا يجوز للوصي أن يتجر لنفسه بمال اليتيم أو الميت،فإن فعل وربح يضمن رأس المال ويتصدق بالربح… الولاية في مال الصغير إلى الأب ووصيه ثم إلى وصي وصيه فإن مات الأب ولم يوص إلى أحد فالولاية إلى أب الأب ثم إلى وصيه ثم إلى وصي وصيه فإن لم يكن فالقاضي ومن نصبه القاضي ولهؤلاء كلهم ولاية التجارة بالمعروف في مال الصغير والصغيرة ولهم ولاية الإجارة في النفس والمال جميعا
امداد الاحکام( 3/367)دارالعلوم کراچی
امدادالفتاوى(۶/۷۴)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس