بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسجد کے لیے وقف شدہ احاطے کےبعض حصہ کو راستہ بنانا

سوال

اس مسئلے کے بارے میں کہ مجھے 17۔5۔ 2017ء کو ایک سوسائٹی جس کا نام خیبر سٹی تحصیل حسن ابدال ضلع اٹک میں واقع ہے دس مرلہ جگہ مسجد کےلیے دی تھی وقف نامہ میرے نام لکھ دیا تھا تو میں نے مطالبہ کیاتھا کہ مجھے اس کا انتقال بھی دیا جائے انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک مفتی صاحب ہیں ان سے مشورہ کریں گے مفتی صاحب کے ساتھ بات میرے سامنے ہوئی تو مفتی صاحب نے کہا کہ متولی اور مسلک دونوں کے نام پر انتقال دیا جائے تو میں نے انتقال کےلیے رقم جمع کرا دی مسجد کی ابتدائی تعمیر ہوگئی آبادی نہ ہونے کی وجہ سے کام کو روک دیا 2021 میں جب دوبارہ کام شروع کیا تو انتقال کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انتقال کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انتقال دینے سے انکار کردیا اب ان کو گلیاں کشادہ کرنے کی ضرورت پڑی اور میں سب سے پہلے مسجد کے واش روم سیڑھی اور مین دیوار کو یہ کہہ کر گرا دیا کہ جگہ ہم نے دی ہے۔اب معلوم یہ کرنا ہے کہ (1) انہیں مسجد کے انتقال کا اس سے منکر ہوجانا شریعت کی رو سے کیا درجہ رکھتاہے اور اس حوالے سے ان کی اخلاقی وشرعی ذمہ داری کیا بنتی ہے؟ (2) مسجد کے کسی حصے مثلاً واش روم وغیرہ کی جگہ کو ضرورت کے وقت راستے میں شامل کرنا کیساہے؟ کیا شرعاً اس کی اجازت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی جگہ کو مسجد کیلئے وقف کر دینے سے وہ جگہ مالک کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور نماز وغیرہ کی اجازت دینے سے وہ قیامت تک کے لیے مسجد شرعی بن جاتی ہے ،یعنی بعد میں مالک (واقف)کو اس وقف کردہ جگہ میں کسی بھی قسم کا تصرف کرنے کا اختیار نہیں ہوتا ۔لہذا صورت مسئولہ میں ایسی کوئی ضرورت معلوم نہیں ہوتی جس کے پیش نظر مسجد کا حصہ یا مصالح مسجد کا کچھ حصہ راستہ میں شامل کیا جائے جبکہ مسجد بھی چھوٹی ہے اس لیے ضروری ہے کہ مسجد اور وقف کے تقدس و احترام کی خاطر راستہ کی کشادگی کے لیے متبادل جگہ دیکھیں اور خیبر سٹی کے ذمہ داران اپنے کیے گئے وعدے کے مطابق وقف شدہ جگہ کو باقاعدہ قانونی طور پر بھی وقف کریں اور متولی کے سپرد کریں۔
فتح القدیر (4/193) رشیدیة
والحق ترجح قول عامة العلماء بلزومه؛ لأن الأحاديث والآثار متظافرة على ذلك قولا كما صح من قوله – عليه الصلاة والسلام – «لا يباع ولا يورث» إلى آخره، وتكرر هذا في أحاديث كثيرة واستمر عمل الأمة من الصحابة والتابعين ومن بعدهم على ذلك۔
رد المحتار (6/546) رشیدیة
(قوله: بجماعة) لأنه لا بد من التسليم عندهما خلافا لأبي يوسف، وتسليم كل شيء بحسبه، ففي المقبرة بدفن واحد وفي السقاية بشربه وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف، واشتراط الجماعة لأنها المقصودة من المسجد، ولذا شرط أن تكون جهرا بأذان وإقامة وإلا لم يصر مسجدا قال الزيلعي: وهذه الرواية الصحيحة۔
رد المحتار(6/580) رشیدیة
قلت يلزم على هذا أن يكتفى فيه بالقول عنده، وهو خلاف صريح كلامهم تأمل وفي الدر المنتقى وقدم۔۔۔۔۔۔۔۔(قوله: لا عكسه) يعني لا يجوز أن يتخذ المسجد طريقا۔۔۔۔وإن أراد أهل المحلة أن يجعلوا شيئا من المسجد طريقا للمسلمين فقد قيل ليس لهم ذلك وأنه صحيح۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس