بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

خادم مسجد کےلیے مسجد کی اشیاء کا ذاتی استعمال شرعاً کیسا ہے؟

سوال

کیا مسجد کا مخلص خادم مسجد کی چیز مثلاً گرم پانی وغیرہ امام یا متولی کی اجازت سے گھر لے جاسکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جو چیزیں مسجد ہی کے استعمال کے لئے مسجد کے عمومی چندے سے خریدی گئی ہوں ان میں سے کسی چیز کو گھر لے جانا یا ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں مثلا ً : اگر پانی کی بورنگ ،ٹنکی کی تعمیر ،اور سپلائی وغیرہ صرف مسجد ہی کے استعمال کے لئے تیار کی گئی ہوں تو کسی کے لئے ان کا ذاتی استعمال جائز نہیں ،البتہ اگر خادم کو گرم پانی وغیرہ کی سہولت دینا مسجد انتطامیہ کی ذمہ داری ہے، اور تنخواہ کے ساتھ یہ سہولیات بھی طے شدہ ہیں تو اس صورت میں مسجد کے گرم پانی سے خادم کے لئے لینا جائز ہے ۔
البحر الرائق (5/ 270)دار الکتاب الاسلامی
 وليس لمتولي المسجد أن يحمل سراج المسجد إلى بيته ولا بأس بأن يترك سراج المسجد فيه من المغرب إلى وقت العشاء ولا يجوز أن يترك فيه كل الليل۔
الفتاوى الهندية (1/ 110)دار الفکر
ولا يحمل الرجل سراج المسجد إلى بيته ويحمل من بيته إلى المسجد. كذا في الخلاصة ولا بأس بأن يترك سراج المسجد في المسجد إلى ثلث الليل ولا يترك أكثر من ذلك إلا إذا شرط الواقف ذلك أو كان ذلك معتادا في ذلك الموضع. كذا في فتاوى قاضي خان۔
الدر المختار مع تنویر الابصار(4/ 366)دار الفکر
(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم۔
رد المحتار(4/ 366)دارالفکر
 أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به۔
رد المحتار (3/ 130)دارالفکر
أن المعروف كالمشروط يوجب إلحاق ما ذكر بالمشروط۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس