بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسجد کےکسی حصہ کو راستہ میں شامل کرنا

سوال

ہمارے گاؤں میں گزشتہ تقریبا 90 سال سے مسجد تعمیر تھی اور بہترین آباد تھی کچھ عرصے سے مسجد گاؤں کی گلیوں سے تقریبا 2فٹ گہری ہو چکی تھی ،تو گاؤں والوں نے مشورہ کیا کہ مسجد کو شہید کر کے نئی بنائی جائے ۔مسجد کے پڑوسی نے 7 مرلے جگہ مسجد کو وقف کی ہے جس میں انہوں نےگھرجا نے کے لیے ایک پل اور حویلی نما راستہ بنایا ہو ا ہے اس کے متبادل انہوں نے تقریبا ½2مر لے جگہ اپنے گھر جانے کے لیے پرانی مسجد والی جگہ سے راستہ لیا ہے جس کی وجہ سے گاؤں میں شدید انتشار پھیل گیا ہے لوگ دو حصو ں میں تقسیم ہو گئے ہیں ایک فریق اس بات کی تائید کرتا ہے کہ راستہ نکل سکتا ہے اور دوسرافریق اس کی مکمل تر دید کرتا ہے۔

جواب

جو جگہ ایک دفعہ شرعی مسجد بنادی گئی ہو وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہو جاتی ہے اور ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے حتی کہ اگر بالفرض مسجد کے ارد گرد کی آبادی ختم ہو جائےاور وہ جگہ ویران ہو جائے تب بھی مسجد کو اپنی حالت پر باقی رکھنااور بطور مسجد اس کی حفاظت کرنا ضروری ہو تا ہے ، اسی طرح شرعی مسجد کے کسی حصے کو فروخت کرنا یا اس کا تبادلہ کرنا یا راستہ وغیرہ میں شامل کردینا یا کسی اور مصرف میں شامل کرنا جائز نہیں ہے ،بلکہ اسے مسجد کے طور پر باقی رکھنا ضروری ہے جن لوگوں نے اس فعل کا ارتکاب کیا ہے وہ اس پر توبہ کریں اور راستہ ختم کرکے اس جگہ کو فورا مسجد میں شامل کریں ۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م:1088ھ)(4/358)دارالفكر
(ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي) حاوي القدسي۔
دررالحكام شرح غررالأحكام،محمد بن فرامرز(م:885ھ)(2/135)دارإحياءالكتب العربية
ولو خرب ما حوله واستغنى عنه يبقى مسجدا عند أبي حنيفة وأبي يوسف) هو المفتى به لما قال في الحاوي القدسي قال أبو يوسف هو مسجد أبدا إلى قيام الساعة لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين(م:1252ھ)(4/378)دارالفکر
(قوله: لا عكسہ) يعني لا يجوز أن يتخذ المسجد طريقا وفيه نوع مدافعة لما تقدم إلا بالنظر للبعض والكل شرنبلالية.قلت: إن المصنف قد تابع صاحب الدرر مع أنه في جامع الفصولين نقل أولا جعل من المسجد طريقا ومن الطريق مسجدا جاز ثم رمز لكتاب آخر، لو جعل الطريق مسجدا يجوز لا جعل المسجد طريقا لأنه لا تجوز الصلاة في الطريق فجاز جعله مسجدا، ولا يجوز المرور في المسجد فلم يجز جعله طريقا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس