بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسجد کےلیے وقف کردہ زمین کو واپس لینے کا حکم

سوال

کسی شخص نے اپنی کچھ زمین کسی اور کو دی اور اسے کہا: میں نے یہ زمین مسجد بنانے کے لیے وقف کی ہے، آپ اس پر مسجد بنائیں اور دسرے شخص نے مسجد کے لیے چندہ جمع کرنا شروع کیا، ایک یا دو سال بعد پہلے فرد نے کہا : میں یہ زمین آپ کو نہیں دیتا ہوں، مجھے واپس کرو۔ دوسرے فرد نے کہا : میں نے تو کچھ کام بھی شروع کیا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کیا یہ زمین پہلے فرد کو ملے گی یا نہیں؟ ۔ راہ نمافرمائی کرممنون فرمائیں۔

جواب

وقف کرنے سے موقوفہ زمیں واقف کی ملکیت سے نکل کر حکما اللہ تعالی کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہےاور واقف کو اس میں مالکانہ تصرف کا اختیار نہیں ہوتا اور وہ نہ اس سے رجوع کر سکتا ہے اورنہ ہی وہ اسے بیچ سکتا ہے اور نہ ہی ہبہ کر سکتا ہے لہذا مذکورہ صورت میں جب واقف نے وہ جگہ مسجد کے لیے وقف کر دی ہے تو اب واقف کو جگہ واپس لینے کا اختیار نہیں ہے بلکہ مذکورہ متولی کی ذمہ داری ہے وہ اس جگہ مسجد تعمیر کرے ۔
فتح القدير (6/193) رشیدیة
والحق ترجح قول عامة العلماء بلزومه؛ لأن الأحاديث والآثار متظافرة على ذلك قولا كما صح من قوله – عليه الصلاة والسلام – «لا يباع ولا يورث» إلى آخره، وتكرر هذا في أحاديث كثيرة واستمر عمل الأمة من الصحابة والتابعين ومن بعدهم على ذلك۔
البحر الرائق (5/425) رشیدیة
 وعند أبي يوسف يزول ملكه بالقول كما هو أصله إذ التسليم عنده ليس بشرط والوقف لازم۔
رد المحتار (4/ 338) سعید
ثم إن أبا يوسف يقول يصير وقفا بمجرد القول لأنه بمنزلة الإعتاق عنده، وعليه الفتوى۔
الفتاوى الهندية (2/357) بیروت
 وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية۔۔۔۔۔۔۔ وإذا كان الملك يزول عندهما يزول بالقول عند أبي يوسف – رحمه الله تعالى – وهو قول الأئمة الثلاثة وهو قول أكثر أهل العلم وعلى هذا مشايخ بلخ وفي المنية وعليه الفتوى۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

18

/

100

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس