بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسجد کی حدود کی تعیین

سوال

مسجد کے خارجی حصے سے کیا مراد ہے؟اور کسی بھی مسجد کے خارجی حصے کے بارے میں کیسے پتا لگائیں گے؟

جواب

واقف نے جو جگہ مسجد کے لئے وقف کی ہے اس میں سے جس حصہ کو نشاندہی کرکے نماز پڑھنے کے لیے منتخب کر دیا اور ایک نماز با جماعت بھی ادا کردی گئی تو اب وہ خاص حصہ مسجد شرعی بن گیا اس مخصوص حصے کے علاوہ حدود (یعنی وضو خانے،بیت الخلاء اور جوتے رکھنے کی جگہ)مسجد سے خارج ہے۔
موسوعة الفقھیة (37/194) علوم اسلامیه. چمن
وفی الاصلاح:انھا البیوت المبنیۃللصلاۃ فیھا للہ فھی خالصة له سبحانه ولعبادتة۔۔۔و خصه العرف بالمکان المھیاۃ للصلوات الخمس۔
الفتاوی الھندیۃ (2/425) العلمیة
من بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقة ويأذن بالصلاة أما الإفراز فلا؛ لأنه لا يخلص لله تعالى إلا به، كذا في الهداية۔
فتاوی ھندیۃ (2/426) العلمیة
واماالصلوۃ فلانه ،لابد من التسلیم عند ابی حنیفۃ و محمد رحمھما اللہ تعالی ھکذا فی البحر الرائق۔
شامیة (6/546،547) مکتبه رشیدیة
قلت: وفي الذخيرة وبالصلاة بجماعة يقع التسليم بلا خلاف، حتى إنه إذا بنى مسجدا وأذن للناس بالصلاة فيه جماعة فإنه يصير مسجدا اهـ ويصح أن يراد بالفعل الإفراز۔۔۔۔ بقوله (جعله مسجدا)۔۔۔۔لكن عنده لا بد من إفرازه بطريقة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس